پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں 6 ارب ڈالر کا فرق، حکومت اور آئی ایم ایف میں تشویش

0
54
پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں 6 ارب ڈالر کا فرق، حکومت اور آئی ایم ایف میں تشویش

اسلام آباد: پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں سالانہ 6 ارب ڈالر تک کا فرق سامنے آنے پر حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یہ معاملہ اُس وقت اجاگر ہوا جب آئی ایم ایف کا مشن 25 ستمبر سے 8 اکتوبر 2025 کے دوران پاکستان کے دورے پر تھا۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے اس فرق پر سوالات اٹھائے جس کے بعد حکومت نے ایک نئی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

اس کمیٹی میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اور وزارتِ منصوبہ بندی کے بین الاقوامی تجارت و مالیات کے ماہرین شامل ہوں گے۔ پی بی ایس کو اس عمل میں مرکزی کردار سونپا جائے گا۔

حکام کے مطابق، یہ فرق تجارتی ڈیٹا کے نظام کو پرانے سسٹم PRAL سے نئے پلیٹ فارم پاکستان سنگل ونڈو پر منتقل کرنے کے باعث بھی بڑھا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل اسٹیٹکس ایکٹ 2011 کے تحت PBS ملک میں تمام شماریاتی ڈیٹا کا نگران ادارہ ہے اور اسے مالیاتی و تجارتی ڈیٹا کی جانچ اور ہم آہنگی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ گزشتہ مالی سال میں تجارتی ڈیٹا کا فرق 6 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہ فرق 25 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان رہا ہے۔

Leave a reply