دبئی: ورچوئل آئی سی یو اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے شعبے میں نئی پیش رفت

دبئی میں صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ دبئی ہیلتھ نے ’ورچوئل آئی سی یو‘ نظام کا آزمائشی آغاز کر دیا ہے، جو جدید مصنوعی ذہانت اور رئیل ٹائم مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
یہ پائلٹ منصوبہ فی الحال الجلیلہ چلڈرنز ہسپتال میں دس بستروں پر نافذ کیا گیا ہے، جہاں مریضوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور جلد کی رنگت میں تبدیلیوں کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ سسٹم کسی بھی خطرناک صورتحال کو بھانپ کر نرسنگ اسٹیشن کو فوری الرٹ بھیجتا ہے، تاکہ بروقت طبی مدد فراہم کی جا سکے۔
یہ جدید نظام دبئی ہیلتھ کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ سسٹم ’سلامہ‘ سے منسلک ہے، جو مریضوں کی دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور دیگر اہم علامات کو خودکار طور پر ریکارڈ کرتا ہے۔ منصوبے میں امریکہ کے نیشنل چلڈرنز ہسپتال کا تعاون بھی شامل ہے، جو دبئی کے آئی سی یو بستروں کی دور سے نگرانی کر رہا ہے۔ حکام کے مطابق، یہ نظام دسمبر میں باضابطہ طور پر فعال کر دیا جائے گا، جس کے بعد اس کا دائرہ کار دیگر اسپتالوں تک بڑھانے کا بھی امکان ہے۔
اسی دوران، دبئی ہیلتھ نے ایک اور اے آئی پر مبنی ایپلیکیشن ’ویرفائی‘ کی آزمائش بھی شروع کی ہے۔ یہ ایپ مریض کی کھانسی اور سانس کی آواز کا تجزیہ کر کے ممکنہ سانس کی بیماریوں کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔ یہ تجربہ ند الحمر اور البرشاء کلینکس میں جاری ہے اور اس کا مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
دبئی ہیلتھ کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد طبی عملے کی معاونت کرنا ہے، نہ کہ ان کی جگہ لینا۔ مصنوعی ذہانت کی بدولت مریضوں کی حالت میں آنے والی معمولی تبدیلیوں کو فوری طور پر پہچانا جا سکتا ہے، جس سے اموات کی شرح کم کرنے اور علاج کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
دبئی، صحت اور ٹیکنالوجی کے امتزاج میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور خطے میں ایک مثالی ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔









