8 اکتوبر: زلزلے کو 20 سال بیت گئے، تعمیر نو کا خواب اب بھی ادھورا

0
137
8 اکتوبر: زلزلے کو 20 سال بیت گئے، تعمیر نو کا خواب اب بھی ادھورا

آج 8 اکتوبر ہے — وہی دن، جب 2005 میں ایک تباہ کن زلزلے نے پاکستان کے شمالی علاقوں، خصوصاً آزاد کشمیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور بالاکوٹ کو لرزا دیا تھا۔ اس قدرتی آفت میں 90 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، ہزاروں بستیاں مٹی میں دفن ہو گئیں، اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔

زلزلے کے فوراً بعد حکومتِ پاکستان اور عالمی برادری نے وعدہ کیا تھا کہ متاثرہ علاقوں کو پہلے سے بہتر انداز میں تعمیر کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے لیے 225 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے 7608 منصوبے شروع کیے گئے۔ تاہم دو دہائیوں بعد بھی ان میں سے 811 منصوبے ایسے ہیں، جن پر کام کا آغاز تک نہیں ہو سکا۔ 919 منصوبے تاحال زیرِ تعمیر ہیں، جب کہ 5878 مکمل کیے جا چکے ہیں۔

تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر

زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان تعلیمی اداروں کو پہنچا۔ مجموعی طور پر 2718 اسکول متاثر ہوئے، جن میں سے صرف 1606 کو مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کیا جا سکا۔ آج بھی 1023 اسکول ایسے ہیں جن کے طلبا چھت سے محروم ہیں۔ 64 ہزار سے زائد بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جنہیں نہ بارش کی فکر ہے، نہ سردی یا گرمی کی — مگر ایک پختہ عمارت اب بھی ان کی پہنچ سے باہر ہے۔

صحت کی سہولیات کا فقدان

مانسہرہ، ایبٹ آباد اور گرد و نواح کے دیہاتی علاقوں میں کئی بنیادی صحت مراکز زلزلے میں تباہ ہو گئے تھے۔ بیس سال بعد بھی متعدد مراکز یا تو مکمل بحال نہیں ہو سکے یا ابھی تک زیر تعمیر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیہاتی خواتین معمولی علاج کے لیے بھی میلوں کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔

رکاوٹیں کیا ہیں؟

سیکرٹری سیرا کے مطابق تعمیر نو کے عمل میں سست روی کی بڑی وجوہات وسائل کی کمی، انتظامی رکاوٹیں اور موسمیاتی اثرات ہیں۔ کئی منصوبے کاغذی کارروائیوں، تبدیلیوں یا عدم دلچسپی کی نذر ہو چکے ہیں۔

قوم کا حوصلہ، لیکن پالیسی کا خلا

8 اکتوبر کو پاکستان میں “قومی استقامت کا دن” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے پیغامات جاری کیے، جن میں قوم کے جذبے کو سراہا گیا۔ صدر کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، جب کہ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط قومی حکمت عملی ضروری ہے۔

سوال اب بھی قائم ہے

آٹھ اکتوبر نہ صرف ایک یادگار دن ہے، بلکہ ایک سوال بھی ہے:
کیا ہم نے واقعی “بلڈ بیک بیٹر” کا وعدہ پورا کیا؟ یا صرف ملبے پر نئی یادداشتیں رکھ چھوڑی ہیں؟

Leave a reply