غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دو سال مکمل، 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 92 فیصد عمارتیں تباہ

0
106
غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دو سال مکمل، 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 92 فیصد عمارتیں تباہ

غزہ پر اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے ان حملوں میں اب تک کم از کم 66 ہزار 600 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 20 ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق شہید ہونے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ہزاروں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔

گزشتہ دو برسوں میں غزہ کی تقریباً 3 فیصد آبادی لقمۂ اجل بن چکی ہے، جب کہ 92 فیصد رہائشی عمارتیں اور 88 فیصد کاروباری تنصیبات تباہ یا شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور 20 لاکھ سے زائد افراد قحط، فاقہ کشی اور طبی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

امریکی تحقیقی ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پراجیکٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ہونے والے تنازعات کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد جتنی ہلاکتیں ہوئیں، ان میں سے تقریباً 14 فیصد صرف غزہ میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سال میں غزہ پر 11 ہزار سے زائد فضائی و ڈرون حملے اور 6 ہزار سے زیادہ گولہ باری کے حملے کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ حالیہ زمینی کارروائی کے بعد اسرائیلی فوج غزہ کے 75 فیصد سے زائد علاقے پر قبضہ جما چکی ہے۔ غزہ سٹی میں تباہی کی شدت ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔

یونیسف کے مطابق اس دوران 170,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں جن کے ایک یا ایک سے زیادہ اعضا ضائع ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی حملوں نے نہ صرف رہائشی علاقوں بلکہ صحت، تعلیم اور مذہبی مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب تک 34 اسپتالوں سمیت کم از کم 125 طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ مزید یہ کہ 1722 سے زائد طبی و امدادی کارکن بھی شہید کیے جا چکے ہیں، جب کہ سینکڑوں کو گرفتار کر کے اسرائیلی حراستی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

صحافی بھی اس جنگ کا نشانہ بنے ہیں۔ دو برسوں میں کم از کم 300 میڈیا ورکرز اور صحافی اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے۔

غزہ پر برسائے گئے بارود کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک تقریباً 200,000 ٹن بارود استعمال کیا جا چکا ہے، جو کہ دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما (15,000 ٹن) اور ناگاساکی (21,000 ٹن) پر گرائے گئے بارود سے کئی گنا زیادہ ہے۔

غزہ کی موجودہ صورتحال عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے، تاہم اب تک بین الاقوامی سطح پر اس انسانی بحران کو روکنے کے لیے مؤثر اقدام سامنے نہیں آ سکا۔

Leave a reply