اقوام متحدہ میں شرکت پر تنازع: شمع جونیجو کا مؤقف سامنے آ گیا

0
163
اقوام متحدہ میں شرکت پر تنازع: شمع جونیجو کا مؤقف سامنے آ گیا

اقوام متحدہ میں وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی وفد میں شامل ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد صحافی اور مشیر شمع جونیجو نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔

شمع جونیجو نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نہ صرف وزیراعظم کی ٹیم کا حصہ تھیں بلکہ انہیں اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر تحریر کرنے کا باقاعدہ ٹاسک بھی سونپا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی مہینوں سے وزیراعظم شہباز شریف کے لیے کام کر رہی تھیں اور ان کا کردار پالیسی بریفس، مشوروں اور تقریری نکات کی تیاری میں رہا ہے۔

اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر انہوں نے لکھا، “مجھے وزیراعظم صاحب نے تقریر لکھنے کی ذمہ داری دی اور باقاعدہ ایڈوائزر کے طور پر شامل کیا گیا۔ مجھے وفد کا حصہ بنایا گیا، سکیورٹی پاس جاری ہوا، اور میں ان کی ٹیم کے ساتھ دن رات کام کرتی رہی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے ساتھ ایک ہی ہوٹل میں قیام پذیر تھیں اور بل گیٹس سمیت دیگر اہم شخصیات سے ہونے والی سائیڈ لائن ملاقاتوں میں بھی شریک رہیں۔ ان ملاقاتوں کی فوٹیج مختلف ٹی وی چینلز پر بھی نشر ہوئی تھی۔

شمع جونیجو نے کہا کہ وہ کلائیمیٹ کانفرنس اور اے آئی کانفرنس میں بھی شریک ہوئیں جہاں وہ دیگر حکومتی عہدیداروں کے ساتھ موجود تھیں۔ ان کے مطابق، “میں خواجہ آصف اور بلال کے ساتھ نہ صرف تقریر کی تیاری میں شامل رہی بلکہ ہم نے ایک ساتھ وقت گزارا، تصویریں بنوائیں اور ایک ہی گاڑی میں واپس ہوٹل آئے۔”

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب خواجہ آصف ایسا تاثر کیوں دے رہے ہیں کہ وہ وفد کا حصہ نہیں تھیں؟ ان کا کہنا تھا، “وزیراعظم کی تاریخی تقریر ایک ٹیم ورک کا نتیجہ تھی، جس میں میری محنت بھی شامل تھی۔ اگر حکومت کے کسی رکن کو اس پر اعتراض ہے تو انہیں وزیراعظم سے بات کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اُن کی اتھارٹی کا معاملہ ہے، میرا نہیں۔”

وزارتِ خارجہ نے پہلے وضاحت دی تھی کہ شمع جونیجو اقوام متحدہ کے سرکاری وفد کا حصہ نہیں تھیں، تاہم ان کے بیان کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

Leave a reply