چین کا “کے ویزا” پروگرام: ہنر مند افراد کے لیے نئی دنیا کے دروازے کھلنے لگے

0
166
چین کا "کے ویزا" پروگرام: ہنر مند افراد کے لیے نئی دنیا کے دروازے کھلنے لگے

دنیا بھر میں باصلاحیت اور ہنر مند افراد کے لیے بین الاقوامی مواقع کی تلاش ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس شعبے میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، جہاں ایک طرف امریکا نے اپنے مشہور ایچ ون بی ویزا کی فیس میں نمایاں اضافہ کیا ہے، وہیں چین نے ایک نیا اور آسان ویزا پروگرام متعارف کرایا ہے جسے “کے ویزا” کا نام دیا گیا ہے۔

امریکا کا سخت تر ہوتا ایچ ون بی ویزا

ایچ ون بی ویزا، جو 1990 سے نافذ العمل ہے، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے وابستہ غیر ملکی ماہرین کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر سال مخصوص کوٹے کے تحت محدود درخواست دہندگان کو اس کا اہل قرار دیا جاتا ہے، اور ان میں اکثریت بھارتی اور چینی ماہرین کی ہوتی ہے۔

تاہم حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے تحت اس ویزا کی لاگت میں بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بعض کمپنیوں کے لیے یہ ویزا حاصل کرنا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔ اطلاعات کے مطابق اب ہر درخواست دہندہ پر سالانہ ایک لاکھ امریکی ڈالر تک فیس عائد کی جا سکتی ہے، جو چھ سال تک جاری رہے گی۔ ان نئی پالیسیوں نے امریکا میں روزگار کے خواہشمند غیر ملکی ماہرین کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

چین کا “کے ویزا”: سہولت، آزادی اور مواقع کا امتزاج

ان حالات میں چین نے اگست 2025 میں “کے ویزا” کے نام سے ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے، جو یکم اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔ یہ ویزا خاص طور پر ٹیکنالوجی، تحقیق، تعلیم اور کاروبار کے میدان میں مہارت رکھنے والے افراد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

“کے ویزا” کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے لیے کسی چینی کمپنی، ادارے یا آجر کے دعوت نامے کی ضرورت نہیں۔ خواہ کوئی نیا گریجویٹ ہو یا خودمختار محقق، وہ چین میں داخل ہو کر ملازمت تلاش کر سکتا ہے یا اپنا کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ اس ویزا کے حامل افراد کو چین میں کام، تحقیق اور تعلیم کے میدان میں زیادہ آزادی حاصل ہوگی۔

عالمی مقابلہ: امریکا بمقابلہ چین

جب دونوں ممالک کی پالیسیوں کا موازنہ کیا جائے تو چین کا “کے ویزا” نہ صرف کم خرچ ہے بلکہ اس میں درخواست دینے کے تقاضے بھی آسان ہیں۔ اس کے برعکس امریکا کا ایچ ون بی ویزا اب مہنگا، محدود اور کڑی شرائط سے مشروط ہو چکا ہے۔

چین اس نئے پروگرام کے ذریعے عالمی ٹیلنٹ کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ بڑے شہروں میں ہائی ٹیک پارکس، تحقیقاتی ادارے اور ٹیکنالوجی ہب قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں جدید شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، اور آئی ٹی میں غیر ملکی ماہرین کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔

رجحان میں تبدیلی: ایشیا نئی منزل؟

یہ صورتحال صرف چین تک محدود نہیں۔ تائیوان، سنگاپور، اور دیگر ایشیائی ممالک بھی بین الاقوامی ماہرین کے لیے اپنے دروازے کھول رہے ہیں۔ جیسے جیسے امریکا کی ویزا پالیسیاں سخت اور مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، ویسے ویسے عالمی ٹیلنٹ ایشیا کی طرف رخ کر رہا ہے۔

چین کا “کے ویزا” پروگرام ایک مثال بن کر ابھرا ہے کہ کس طرح ایک ملک ہنر مند افراد کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے پالیسیاں نرم اور ماحول سازگار بنا سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھا جائے گا کہ دنیا کے بہترین دماغ کن ممالک کا رخ کرتے ہیں — لیکن ایک بات واضح ہے: عالمی مقابلہ تیز ہو چکا ہے، اور اب صرف امریکا ہی واحد منزل نہیں رہا۔

Leave a reply