عائشہ عمر نے ’لازوال عشق‘ کے پرومو پر کی گئی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قراردے دیا

0
176
عائشہ عمر نے ’لازوال عشق‘ کے پرومو پر کی گئی قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قراردے دیا

پاکستانی اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے اپنے آنے والے ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ کو ڈیٹنگ شو قرار دینے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں اور اس میں سوشل میڈیا پر غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔

عائشہ عمر نے ایک خصوصی انٹرویو میں وضاحت دی کہ شو کے پرومو میں جو قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، ان میں کہا گیا کہ وہ اس شو کو ڈیٹنگ شو کہہ رہی ہیں، لیکن انہوں نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شو کا کسی مغربی ڈیٹنگ شو سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوان ایک دوسرے کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں اور زندگی کا ہم سفر تلاش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شو میں حصہ لینے والے نوجوان ایک خوبصورت ولا میں رہیں گے، لیکن اس میں تمام انتظامات پاکستانی معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ شو میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے علیحدہ رہائش گاہیں ہوں گی، جبکہ لاؤنج، کچن اور پول سائیڈ مشترکہ جگہیں ہوں گی جہاں وہ آپس میں بات چیت کر سکیں گے۔

عائشہ عمر نے کہا کہ یہ شو دراصل ایک سوشل ایکسپیرمنٹ ہوگا جو بات چیت اور باہمی تعلقات پر مبنی ہوگا۔ اس میں کوئی پہلے سے بنائے گئے جوڑے شامل نہیں ہوں گے، اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا دباؤ ہوگا۔ تمام تعلقات باہمی گفتگو اور سمجھ بوجھ کے بعد ہی بنیں گے۔

یہ شو ترکی میں فلمایا گیا ہے اور اس کی تقریباً 100 اقساط ہوں گی۔ شو میں چار مرد اور چار خواتین مختلف چیلنجز، گیمز، جذباتی اتار چڑھاؤ اور تنازعات کا سامنا کریں گے، اور اختتام پر ایک “وننگ کپل” منتخب کیا جائے گا۔

ریئلٹی شو ’لازوال عشق‘ کا ٹیزر حال ہی میں جاری کیا گیا تھا، جس میں دکھایا گیا کہ شرکاء ایک شاندار بنگلے میں رہتے ہوئے مختلف مراحل سے گزریں گے۔ اس شو کو “ابدی محبت کی تلاش اور جذباتی آزمائشوں کا سفر” قرار دیا گیا ہے۔

ٹیزر کے بعد سوشل میڈیا پر شو کے حوالے سے تنقید اور بائیکاٹ کی مہم شروع ہوئی تھی، تاہم پیمرا نے واضح کیا کہ چونکہ یہ شو صرف سوشل میڈیا پر نشر ہوگا، اس لیے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ شو یوٹیوب پر نشر ہوگا، اور اس کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔

Leave a reply