بچوں سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، ملزم سے 200 سے زائد ویڈیوز برآمد

کراچی کے علاقے قیوم آباد میں کم عمر بچوں سے مبینہ زیادتی کے کیس میں پولیس نے عدالت میں تفتیشی رپورٹ جمع کرادی ہے، جس میں ملزم کی جانب سے متعدد اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ملزم شبیر احمد کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، گرفتار ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے جو 2011 میں کراچی آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ملزم نے قیوم آباد میں مختلف چھوٹے کاروبار کیے، جن میں پرچون کی دکان اور شربت کا ٹھیلا شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے بچوں کو مبینہ طور پر لالچ دے کر اپنے اعتماد میں لیا اور غیر اخلاقی حرکات کا نشانہ بنایا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے ملزم کے زیرِ استعمال موبائل فون اور متعدد یو ایس بی ڈرائیوز سے بڑی تعداد میں غیر قانونی ویڈیوز برآمد کی ہیں۔ پولیس کے مطابق ان ویڈیوز میں کم عمر بچوں سے غیر اخلاقی رویوں کا ثبوت موجود ہے، جس کے بعد مقدمے میں چائلڈ پروٹیکشن اور سائبر کرائم سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے ایک ذاتی ڈائری میں بچوں کے نام اور دیگر تفصیلات درج کر رکھی تھیں، جو اب تحقیقات کا حصہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک یو ایس بی ڈرائیو کی برآمدگی کے بعد ہی یہ معاملہ منظر عام پر آیا، جس نے تفتیش کو آگے بڑھانے میں مدد دی۔
پولیس حکام کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں، اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ متعلقہ اداروں کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ بچوں کو مکمل تحفظ اور مدد فراہم کی جا سکے۔









