
روس میں تیار کی جانے والی ایک نئی کینسر ویکسین نے ابتدائی طبی آزمائش میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ اس ویکسین کو روس کے نیشنل میڈیکل ریسرچ ریڈیولوجی سینٹر اور اینگلہارڈ انسٹیٹیوٹ آف مالیکیولر بائیولوجی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔
یہ ویکسین جدید میسنجر آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو جسم کے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کی شناخت اور ان پر حملہ کرنے کی تربیت دیتی ہے، جبکہ صحت مند خلیات کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ روایتی کیموتھراپی کے برعکس، جس میں صحت مند خلیات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، mRNA ویکسین جسم کو مخصوص پروٹینز کے ذریعے خود کینسر سے لڑنے کے قابل بناتی ہے۔
ابتدائی کلینیکل ٹرائل میں آنتوں کے کینسر میں مبتلا 48 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق، تمام مریضوں میں مدافعتی ردعمل پیدا ہوا، جب کہ 68 سے 80 فیصد مریضوں میں رسولیوں کے سائز میں کمی یا ان کے پھیلاؤ میں رکاؤ دیکھا گیا۔ سب سے مثبت بات یہ رہی کہ کسی مریض میں کوئی سنگین منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔
ابتدائی طور پر اس ویکسین کو دماغ اور جلد کے کینسر پر بھی محدود پیمانے پر آزمایا گیا، جہاں نتائج کو “حوصلہ افزا” قرار دیا گیا ہے۔
اب روسی حکام اس ویکسین کے طبی استعمال کے عمل کو تیز کرنے پر غور کر رہے ہیں، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر بڑے پیمانے پر آزمائش اور طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا ابھی باقی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ ابتدائی نتائج مثبت ہیں، مگر صرف 48 مریضوں پر کی گئی آزمائش کینسر جیسے پیچیدہ مرض کے علاج میں حتمی مؤثریت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔









