یو اے ای کے دباؤ پر اسرائیل نے مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ مؤخر کر دیا

0
87
یو اے ای کے دباؤ پر اسرائیل نے مغربی کنارے کے الحاق کا منصوبہ مؤخر کر دیا

اسرائیل نے مغربی کنارے کے بڑے حصے کو ضم کرنے کا منصوبہ وقتی طور پر مؤخر کر دیا ہے، جس کی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی جانے والی سخت وارننگ بتائی جا رہی ہے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کے ایجنڈے سے مغربی کنارے کے الحاق کا معاملہ نکال دیا۔ اجلاس میں دراصل ان علاقوں پر اسرائیلی خودمختاری کے نفاذ پر گفتگو متوقع تھی، مگر اب توجہ فلسطینی علاقوں میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال پر مرکوز کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی حکومت کو واضح پیغام دیا تھا کہ مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی کوشش ابراہیمی معاہدے کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اماراتی معاون وزیر لانا نسیبہ نے کہا تھا کہ الحاق کا کوئی بھی اقدام ہمارے لیے “سرخ لکیر” ہے۔

حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے مغربی کنارے کے بیشتر علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر یو اے ای نے سخت ردعمل دیا۔ امارات کی جانب سے واضح کیا گیا کہ 2020 میں طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر قائم سفارتی تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں اگر اسرائیل اس راہ پر آگے بڑھتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کا یہ فیصلہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

Leave a reply