دریائے چناب میں سیلابی صورتِ حال، ملتان ڈویژن میں درجنوں بستیاں زیرِ آب

ملتان ڈویژن میں دریائے چناب کا سیلابی ریلا داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
ملتان شہر کے تحفظ کے لیے قائم اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں 3 سے 4 فٹ تک اضافہ ہوا ہے۔ متعدد گھروں کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ ہیڈ محمد والا روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر کے اس میں شگاف ڈالنے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ڈرون کی مدد سے پھنسے ہوئے افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے اور خالی گھروں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے تاکہ چوری چکاری روکی جا سکے۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال صورتِ حال قابو میں ہے، تاہم اگر پانی کا دباؤ مزید بڑھا تو حفاظتی بند توڑنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ادھر دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے:
ہیڈ مرالہ: 2 لاکھ 82 ہزار کیوسک
ہیڈ خانکی: 2 لاکھ 42 ہزار کیوسک
ہیڈ تریموں: 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک
یہ تمام مقامات اس وقت اونچے درجے کے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔
اسی طرح دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک کے قریب پہنچ گیا ہے، جو انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی علامت ہے۔ ہیڈ سلیمانکی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جہاں بہاؤ 1 لاکھ 22 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائے سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
متاثرہ علاقوں میں ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے الرٹ ہیں اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔









