جیل سپرنٹنڈنٹ اب قیدیوں پر تشدد کا حکم نہیں دے سکتے

0
254
جیل سپرنٹنڈنٹ اب قیدیوں پر تشدد کا حکم نہیں دے سکتے

ہاٹ لائن نیوز : پنجاب میں جیلوں میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے، محکمہ داخلہ نے قیدیوں کی سزاؤں کے لیے قواعد و ضوابط جاری کر دیے، جس کے مطابق جیل میں قید قیدیوں کو قواعد کے مطابق ہی سزا دی جا سکتی ہے۔

سزا کو میرٹ پر رکھنے کے لیے سپروائزری آفیسر کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ یا کوئی افسر کسی قیدی کو قواعد کیخلاف ورزی پر سزا نہیں دے گا۔

سپرنٹنڈنٹ کو جیل کے قوانین کی خلاف ورزی پر جیل انکوائری کے بعد قیدی کو سزا دینے کا اختیار ہے۔ سپرنٹنڈنٹ سزا سنانے سے پہلے متعلقہ ڈی آئی جی جیل کو تحریری طور پر مطلع کریگا۔

دوران تفتیش قیدی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جائیگا۔ تمام انکوائری کی کارروائی تحریری طور پر کیجائے گی۔

متعلقہ ڈی آئی جی جیل انکوائری کے بعد کسی بھی قیدی کو دی گئی سزا کو منسوخ یا برقرار رکھ سکتا ہے۔ نگران افسر کسی بھی وقت کسی بھی قیدی پر دی گئی سزا کا جائزہ لے سکتا ہے۔

جیل قوانین کی خلاف ورزی پر سزا کی مدت بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ اگر کسی قیدی کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر الگ کرنا ہو تو اسے سزا کے بلاک میں نہیں رکھا جا سکتا۔

انکوائری کے بعد سزا کے بلاک میں رکھا گیا قیدی سزا میں معافی کے حق سے محروم ہو جائیگا۔

Leave a reply