سرکاری ملازمین کی غیر ملکیوں سے شادی کے خلاف درخواست مسترد

سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکیوں سے شادی کے خلاف درخواست خارج کر دی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بنچ نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریوں سے شادی کے خلاف درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کی استدعا ممکن ہے؟ کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جا سکتا ہے؟ اگر روکنے کا کوئی قانون ہے تو وہ قانون بتائیں۔
جس پر درخواست گزار محمود اختر نقوی نے کہا کہ میں شدید بیمار ہوں، مجھے وقت دیا جائے، میں نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ غیر ملکیوں سے شادی قرآن پاک میں کہیں منع ہے تو بتائیں، جس پر درخواست گزار محمود اختر نقوی نے کہا کہ میں نے پی ڈی ایم حکومت کی قانون سازی کو بھی چیلنج کیا ہے۔
آئینی بنچ نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریوں کے ساتھ شادی کے خلاف پی ڈی ایم حکومت کی قانون سازی کے خلاف درخواست کو خارج کر دیا۔
آئینی بنچ نے درخواست گزار محمود اختر نقوی کو 40 ہزار روپے جرمانہ کیا۔ بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین نے کہا کہ آپ کے پاس 2 درخواستیں ہیں اور دونوں پر 20 ،20ہزار جرمانہ عائد کر رہے ہیں۔








