پنجاب کے عوام اور وکلاء کے لیے خوش خبری

0
185
پنجاب کے عوام اور وکلاء کے لیے خوش خبری

ہاٹ لائن نیوز : وکلا کے مطالبے پر پنجاب حکومت نے کورٹ فیس میں کمی کا اعلان کر دیا۔ گورنر پنجاب کی منظوری کے بعد بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

حکومت پنجاب کیجانب سے کورٹ فیس میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کیمطابق سول کورٹ کے حکم یا فیصلے کی کاپی کیلیے 100 روپے کورٹ فیس مقرر کی گئی ہے جب کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی کے لیے 500 روپے کورٹ فیس مقرر کی گئی ہے۔

تصدیق شدہ کاپی کے لیے کورٹ فیس 100 روپے سے کم کر کے 10 روپے فی صفحہ کر دی گئی ہے۔ کرایہ داری ایکٹ کے تحت نظرثانی کی درخواست کے لیے 500 روپے، سیکشن 15 کے تحت ہائی کورٹ میں نظرثانی کی درخواست کے لیے 500 روپے جبکہ ریونیو یا کرایہ کی درخواست کے لیے کورٹ فیس 500 روپے سے کم کر کے 10 روپے کر دی گئی ہے۔

مزارعہ کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے درخواست یا پٹیشن پر کورٹ فیس 100 روپے، کیس ٹرانسفر کی درخواست کی فیس 500 روپے سے کم کر کے 100 روپے کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی کورٹ میں کیس ٹرانسفر کی درخواست پر کورٹ فیس 200 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست پر کورٹ فیس 10 روپے ہے جبکہ حق ملکیت میں دعویٰ یا درخواست پر ایک بار 500 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

طلاق ایکٹ کے تحت حلف نامے کے لیے کورٹ فیس 100 روپے، سول، فوجداری اور ریونیو کورٹ میں حلف نامے یا پاور آف اٹارنی کے لیے 100 روپے، ہائی کورٹ یا بی او آر میں حلف نامہ کے لیے 200 روپے جبکہ فیملی کورٹ اور قیدی کے حلف نامے کے لیے 100 روپے ہے۔ . کورٹ فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ حکم امتناعی کی درخواست پر کورٹ فیس بھی 500 روپے سے کم کر کے 10 روپے کر دی گئی ہے۔

Leave a reply