پولیس پر حملوں کےخلاف اہلکاروں کا احتجاج چوتھے روز میں داخل

0
172
پولیس پر حملوں کےخلاف اہلکاروں کا احتجاج چوتھے روز میں داخل

ہاٹ لائن نیوز : خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پولیس پر حملوں اور اداروں کی مداخلت کے خلاف پولیس اہلکاروں کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے جب کہ مظاہرین نے ایک بار پھر سڑک پر رات گزاری۔

بنوں، ڈی آئی خان، ٹانک اور کرک کے اضلاع سے بڑی تعداد میں سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے لکی مروت میں لیفٹیننٹ عدنان شہید چوک، تاج زئی پر دھرنے میں شمولیت اختیار کی۔

پولیس مظاہرین نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ضلع کی تمام داخلی اور خارجی سڑکوں کو بند کر دیا۔ آج مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دیتے ہوئے لکی، گمبیلہ اور سرائے نورنگ سمیت پورے ضلع کے کاروباری مراکز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ .

مظاہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی، کالج، اسکول سمیت تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور اگر کسی کی دکان کھلی ہوئی پائی گئی تو نقصان کے ذمہ دار وہ ہوں گے۔

کاروباری مراکز بند رکھنے کے لیے سرائے نورنگ اور لکی سٹی میں 100، 100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔

لکی مروت کے تاجہ زئی چوک پر پولیس اہلکاروں کے دھرنے سے حکومتی ٹیم کے مذاکرات تیسرے روز بھی بے نتیجہ رہے۔

دھرنے کے دوران انڈس ہائی وے بلاک ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ پھلوں، سبزیوں اور دیگر سامان سے لدی گاڑیاں بھی پھنس گئیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا جائے۔

دھرنے میں مقامی افراد، عمائدین، بار ایسوسی ایشن کے اراکین، تاجروں، طلباء، سول سوسائٹی اور مختلف علاقوں سے سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے شرکت کی جبکہ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امن اور اتحاد کے پیغامات درج تھے۔

Leave a reply