
لاہورانسداد دہشت گردی عدالت،
آئی جی پنجاب سمیت دیگر پولیس افسران کو نو مئی کے مقدمات میں بطور ملزم طلب کرنے کا معاملہ
عدالت نے میاں محمود الرشید کی جانب سے دائر درخواست خارج کر دی
عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء میاں محمود الرشید کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا
انسدداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمن جج خالد ارشد کی جانب سے فیصلہ جاری کیا گیا
درخواست محمود الرشید نے سکندر ذوالقرنین کے توسط سے دائر کی تھی
درخواست گزار کی جانب سے ڈاکٹر عثمان انور آئی جی پنجاب، بلال صدیق کمیانہ سی سی پی او لاہور،
ڈاکٹر عقیلہ نیاز نقوی ایس پی انویسٹیگیشن اقبال ٹاؤن، حسام افضل ٹی اے ایس آئی، خالد ہیڈ کانسٹیبل
عصمت کمال انسپکٹر انچارج سیکیورٹی برانچ راولپنڈی کو بطور ملزم پیش ہونے کی استدعا کی گئی،فیصلہ
درخواست گزار کے مطابق حسام افضل ٹی اے ایس آئی، خالد ہیڈ کانسٹیبل، عصمت کمال انسپکٹر انچارج سیکیورٹی برانچ راولپنڈی نے بیان ریکارڈ کروایا،فیصلہ
پولیس اہلکاروں کے بیان کے مطابق وہ زمان پارک میں بطور پی ٹی آئی کارکن موجود تھے،فیصلہ
سات مئی کو عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں حساس اداروں کی تنصیبات پر حملہ کرنے کی ہدایت دی گئیں،فیصلہ
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق گواہان نے اپنے اعلیٰ افسران کو اس سے بچنے کے لیے آگاہ نہیں کیا،فیصلہ
گواہان نے مبینہ واقعات اور ملزمان کے سہولت کار کے طور پر کام کیا،فیصلہ
ناخوشگوار واقعے کی مزاحمت کے لیے قانونی اقدامات کیے گئے تھے،فیصلہ
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے اکسانے پر اشتعال میں آ کر ان واقعات کو انجام دیا،فیصلہ
پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جو مہلک ہتھیاروں سے لیس تھی،فیصلہ
کارکنان کے پاس پٹرول بم تھے،رہنماوں کے اکسانے پر انہوں نے مبینہ سنگین وارداتیں کیں،فیصلہ
چودہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور یہ انسداد دہشت گردی لاہور کی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں،فیصلہ
قانون نافذ کرنے والے ادارے/پولیس فورس واقعہ کی ہر مبینہ جگہ پر موجود پائی گئی،فیصلہ
پولیس حملہ آوروں کو قابو نہ کر سکے، بلکہ وہ زخمی ہوئے،فیصلہ
سرکاری گواہان کو بطور ملزم ساتھی طلب کرنے کے اس کے دعوے کا کوئی جواز نہیں ہے،فیصلہ
درخواست گزار میاں محمود الرشید کی دائر درخواست کو خارج کی جاتا ہے،فیصلہ









