ایک روپے کا ٹیکس تنازعہ حل کرنے کے لیے50 ہزار روپے ضائع

0
172
ایک روپے کا ٹیکس تنازعہ حل کرنے کے لیے50 ہزار روپے ضائع

دہلی کے ایک شہری نے سوشل میڈیا پر ایک اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ٹیکس کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو 50 ہزار روپے جمع کرائے تھے جس کی اصل قیمت صرف 1 روپے تھی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپورو جین نامی بھارتی شہری نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے لکھا کہ مجھے حال ہی میں موصول ہونے والے انکم ٹیکس نوٹس پر میں نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو 50 ہزار بھارتی روپے کی فیس ادا کی جس کی حتمی متنازعہ قیمت ایک روپیہ نکلی۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ “میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔”

یہ واقعہ ہندوستان میں ٹیکس کے نظام کو نیویگیٹ کرنے کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتا ہے، جہاں بظاہر معمولی مسائل نمایاں پیشہ ورانہ فیسوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

اپورو جین کے معاملے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کچھ صارفین نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی نااہلی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جب کہ کچھ نے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی فیسوں پر سوال اٹھایا۔

Leave a reply