لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلوں کو غیر قانونی قرار دے دیا

0
198
لاہور ہائیکورٹ نے پولیس مقابلوں کو غیر قانونی قرار دے دیا

لاہور ہائیکورٹ،

قیدیوں کی بازیابی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری

عدالت نے پولیس کےجعلی پولیس مقابلوں کو ناجائز قرار دے دیا

عدالت نے ملزمان کےماورائے عدالت قتل کو سنگین جرم قرار دے دیا

جعلی پولیس مقابلوں کی مذموم کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا،عدالت

ماورائے عدالت قتل قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں،عدالت

یہ دعویٰ کہ پولیس سخت اور مایوس مجرموں کو مقابلوں میں مار دیتی ہے،فیصلہ

اس میں کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور یہ فوجداری نظام انصاف کو چیلنج کرتا ہے،فیصلہ

اس طرح کی غلط فہمی نہ صرف قانونی طور پر ناقابل دفاع ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہے،عدالتی فیصلہ

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کے تحت پولیس مقابلے کی تحقیقات مکمل کرے گی،عدالتی تحریری فیصلہ

ضلعی پولیس افسران پولیس مقابلے کی رپورٹ AlG/مانیٹرنگ، پنجاب کو بھیجیں گے،فیصلہ

عدالتی معاون میاں علی حیدر سمیت مدعی اور سرکاری وکلاء پیش ہوئے

بازیابی درخواست میں بتایا گیا تھا کہ دونوں افراد تھانہ سندر لاہور کی غیر قانونی حراست میں ہیں،فیصلہ

سرکاری وکیل نے بتایا کہ دونوں افراد تھانہ لٹن روڈ لاہور کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جا چکے ہیں،فیصلہ

دونوں افراد کے خلاف قتل سمیت دیگر مقدمات درج تھے،فیصلہ

آپریشنز اینڈ انویسٹی گیشن ونگ کو پولیس مقابلے کی رپورٹ پیش کی،فیصلہ

چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ پیش کیا گیا ریکارڈ نامکمل تھے،فیصلہ

قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کی بجائے اسے نظر انداز کیا گیا تھا،فیصلہ

پولیس مقابلے کی کھوکھلی تفتیش نے پورے معاملے کو انتہائی مشکوک بنا دیا،تحریری فیصلہ

آرٹیکل 4، 9، 10، 10-A، اور 14 کے تحت تحفظات کی ضمانت دی گئی ہے،فیصلہ

ماورائے عدالت کی روک تھام اور تفتیش کے لیے اصول قائم کیے گئے ہیں،فیصلہ

اقوام متحدہ ماورائے عدالت قتل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے،فیصلہ

ریاستیں ماورائے عدالت قتل کی روک تھام، تحقیقات،سزا دینے اور انسانی حقوق کی پابند ہیں،فیصلہ

ہر فرد اس کے مبینہ جرائم سے قطع نظر، منصفانہ ٹرائل کا حقدار ہے،فیصلہ

جب پولیس افسران قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں،وہ فوجداری نظام انصاف کو تباہ کر دیتے ہیں،فیصلہ

وہ جج، جیوری، اور جلاد کے کردار سنبھالتے ہیں، جو منصفانہ مقدمے، حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے،فیصلہ

ماورائے عدالت قتل کا سہارا،قانون نافذ کرنے والے ان اصولوں کو مجروح کرتے ہیں جن پر ایک منصفانہ معاشرہ تعمیر کیا جاتا ہے،فیصلہ
ماورائے عدالت قتل قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دیانتداری پر شک کا ایک طویل سایہ ڈالتا ہے،فیصلہ

جعلی پولیس مقابلوں کی مذموم کارروائیوں کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا،فیصلہ

ایسی مذموم سرگرمیوں میں ملوث افراد کو ثابت قدمی کے ساتھ جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے،فیصلہ

قانون خطرات کو بے اثر کرنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے،فیصلہ
اس طاقت کو انتہائی ذمہ داری اور سمجھداری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے،فیصلہ

اپنے دفاع کی نوعیت بعض اوقات پیچیدہ ہو سکتی ہے،فیصلہ
ان واقعات کی تحقیقات کی جائے جہاں مہلک طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے،فیصلہ

طاقت کے استعمال کے لیے واضح حدود کا تعین کرنے کے لیے قانونی ڈھانچہ کو مضبوط کیا جانا چاہیے،فیصلہ
ماورائے عدالت اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا،فیصلہ
افسران کو خطرات کا درست اندازہ لگانے اور مناسب جواب دینے کے لیے لیس ہونا چاہیے،فیصلہ

فوجداری نظام انصاف سالمیت کی حفاظت کرتا ہے،فیصلہ

پولیس مقابلے ناقابل برداشت ہیں،ایسی کارروائیاں اپنے ساتھ سنگین نتائج لے کر جاتی ہیں،فیصلہ
سنٹرل پولیس آفس پنجاب کی طرف سے 12 جون 2014 کو جاری سرکلر پیش کیا گیا،فیصلہ

اگر شرپسند پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں، تو اسے PPC کی شق 100 کے تحت نجی دفاع کا حق حاصل ہے،فیصلہ
قانون کے تحت فرضی انکاؤنٹر کی اجازت نہیں ہے،فیصلہ
جعلی پولیس مقابلے کی کسی بھی صورت کو برداشت نہیں کیا جائے گا،فیصلہ
ایسی صورت میں سخت قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔فیصلہ

ضلعی پولیس کے افسران پولیس مقابلے کی رپورٹ AlG/مانیٹرنگ، پنجاب کو بھیجیں گے،فیصلہ
صوبائی پولیس افسر کا جواب جعلی پولیس مقابلوں کے گھناؤنے عمل کو روکنے کے حقیقی ارادے کی عکاسی کرتا ہے،فیصلہ
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ جعلی پولیس مقابلے کے الزام سے متعلق ایک درخواست فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو جمع کرائی گئی ہے،فیصلہ

ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مزید کارروائی کی جائے،فیصلہ
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کیے تحت تحقیقات مکمل کرے گی،فیصلہ

صوبائی پولیس آفیسر نے صوبے بھر میں جعلی پولیس مقابلوں کے لیے زیرو ٹالرینس کو لازمی قرار دیا ہے،فیصلہ

صوبائی آفیسر کے سرکلر کو اس کے حقیقی خط اور روح کے مطابق نافذ کیا جائے گا،فیصلہ
عدالت نے ملزمان شہزاد اور عاشق نامی مبینہ قیدیوں کی بازیابی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا
عدالت نے دائر درخواست نمٹا دی۔

Leave a reply