صوبائی دارلحکموت میں جنگل کا قانون نفاذ کر دیا تھا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

0
190
صوبائی دارلحکموت میں جنگل کا قانون نفاذ کر دیا تھا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پری سروس ٹریننگ کورس کی اختتامی تقریب منعقد هہوئی،9 ایڈیشنل سیشن ججوں اور 26 سول ججوں نے پری سروس ٹریننگ کورس مکمل کیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد خان نے جوڈیشل افسران کو تعریفی اسناد تقسیم کیں

،حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ بانی پاکستان کے قریبی ساتھی قاضی عیسیٰ کے بیٹے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ آئین و قانون کو مقدم رکھا ہے،ہم کسی کی بی ٹیم نہیں ہیں، ہم صرف اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں، یہ عدالتی نظام کسی طاقتور کے لئے نہیں بنا ہے،یہ عدالتی نظام مظلوم کی دادرسی کے لئے بنایا گیا ہے، مقدمات میں تاخیر کی بڑی وجہ ہڑتال کلچر ہے،لاہور میں گزشتہ عرصہ میں 73 دن تک عدالتیں بند کردی گئیں،صوبائی دارلحکومت میں جنگل کا قانون نافذ کردیا گیا تھا،عوام کے انصاف تک رسائی کے حقوق کو ختم کردیا گیا تھا،90 فیصد سے زائد وکلاء پروفیشنل ہیں،پروفیشنل وکلاء نے ہڑتال کلچر کو ختم کرنے میں ہمارا ساتھ دیا،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کے ججز نے ہڑتال کلچر کو ختم کرنے میں بہترین کردار ادا کیا، ہڑتال کی کال کے باوجود چیف جسٹس پاکستان اور سپریم کورٹ کے باقی ججز نے مقدمات کی سماعت کی،

ہم سب کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں،باعث مسرت ہے کہ کسی بھی ہائی کورٹ بار نے ہڑتال کی کال نہیں دی،انشاءاللہ عدالتوں کا تقدس برقرار رہے گا اور یہ ہڑتال کلچر ختم ہوگا،آج کی پرقار تقریب پنجاب کی عدلیہ میں آنے والے نئے ججوں کی ٹریننگ کی اختتامی تقریب ہے،یہ بات باعث اطمینان ہے کہ نئے ججوں میں خواتین بھی موجود ہیں،پری سروس ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد عملی انصاف کی جانب گامزن ہونگے،نئے جج مشکل مراحل سے گزر کر آج پنجاب کی عدلیہ کا حصہ بنے ہیں،عدل کرنا اللہ تعالی کی صفت ہے،ایک جج اللہ کی جانب سے چنا جاتا ہے،جج بے خوف، بے لالچ، جرات مند اور دانشمند ہوتا ہے

Leave a reply