
ہاٹ لائن نیوز : سپریم کورٹ کے احکامات کی بعد سابق وزیر اعظم شہباز شریف اور انکے بیٹے حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس دوبارہ کھل گیا ، شہباز شریف احتساب عدالت پیش ہوئے اور بیان دیا کہ بطور پبلک آفس ہولڈر کبھی تنخواہ اور مراعات نہیں لی ۔عدالت سے انصاف کی توقع ہے ۔
احتساب عدالت کے جج ذولقرنین اعوان نے شہباز شریف اور انکے بیٹے کے خلافت رمضان شوگر ملز ریفرنس پر سماعت کی ، دوران سماعت سابق وزیر اعظم شہباز شریف عدالت پیش ہوئے جبکہ حمزہ شہباز نے بیرون ملک ہونے کے باعث حاضری معافی کی درخواست دائر کی ، جسے عدالت نے منظور کرلیا ۔
دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے اس کیس میں شہباز شریف کو حاضری سے استثنیٰ حاصل تھا ، شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور استدعا کی کچھ گذارشات کرنا چاہتا ہوں ، نیب نے پہلے مجھے آشیانہ اقبال میں طلب کرکے صاف پانی کیس میں گرفتار کیا ، پھر مجھ پر گندہ نالہ تعمیر کرنے کا کیس بنادیا گیا ۔
سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ گندہ نالہ ایک ایم پی اے نے تعمیر کرایا تھا ، میرے دور میں صاف پانی کے ہزاروں پروجیکٹس لگے اپنے دور میں خاندان کے افراد کا پونے دو ارب نقصان کیا مگر شوگر ملزم کو سبسڈی نہیں دی ۔
پورے پاکستان میں ایکسائز ڈیوٹی نہیں تھی پہلی بار اینتھول پر ڈیوٹی پنجاب میں لگائی جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی ، شہباز شریف نے کہا کہ بطور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تنخواہ تک میری تنخواہ اور مراعات دس کڑور بنتی تھی جسے کبھی نہیں لیا۔
سابق وزیر اعظم کی پیشی پر لیگی کارکنان بھی عدالت کے باہر پہنچے اور شہباز شریف کے حق میں نعرے لگائے ، عدالت نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس پر مزید کارروائی 12 دسمبر کے لیے ملتوی کردی۔۔









