
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کے لیے قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی پاکستان پیپلز پارٹی کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس عہدے کے لیے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا نام نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق کمیٹی میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو یکساں نمائندگی دی جائے گی۔ ان تینوں جماعتوں کے دو، دو سینیٹرز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کو بھی ایک، ایک رکن کی نمائندگی دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں قومی اسمبلی سے پانچ اور سینیٹ سے دو ارکان کی شمولیت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی نمائندگی مکمل ہوگی۔ کمیٹی کے سینیٹرز کے ناموں کا حتمی فیصلہ نائب وزیراعظم اور سینیٹ میں قائد ایوان اسحاق ڈار مشاورت کے بعد کریں گے۔
پیپلز پارٹی نے اپنے سات نام تجویز کردیے
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپنے نمائندوں کے نام طے کرلیے ہیں۔
پارٹی رہنما نوید قمر کے مطابق قومی اسمبلی سے شازیہ مری، عبدالقادر پٹیل، صادق میمن، نوابزادہ افتخار اور علی قاسم گیلانی کو نامزد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سینیٹ کے لیے فاروق ایچ نائیک اور سینیٹر ضمیر گھمرو کے نام سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے سینیٹر شہادت اعوان کا پہلے تجویز کردہ نام بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
نوید قمر کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی سربراہی پیپلز پارٹی کو دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم چیئرمین کے انتخاب کا حتمی فیصلہ پارٹی کی قیادت کرے گی۔ فاروق ایچ نائیک اس ذمہ داری کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
30 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی
مجوزہ کمیٹی مجموعی طور پر 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جس میں قومی اسمبلی سے 20 جبکہ سینیٹ سے 10 ارکان شامل کیے جائیں گے۔
کمیٹی کی تشکیل اور قیادت کے حوالے سے حتمی ناموں کا اعلان سیاسی جماعتوں سے مشاورت مکمل ہونے کے بعد متوقع ہے۔









