خیبر پختونخوا میں ابھی مزید سیاسی تبدیلیاں متوقع ہیں، پارٹ ٹو اور تھری باقی ہیں: فیصل واوڈا

0
18
خیبر پختونخوا میں ابھی مزید سیاسی تبدیلیاں متوقع ہیں، پارٹ ٹو اور تھری باقی ہیں: فیصل واوڈا

اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ پیش رفت محض آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اہم تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی 13 سالہ حکمرانی کے دوران مسائل میں اضافہ ہوا، جبکہ نئی صوبائی کابینہ کی کارکردگی آئندہ 180 دنوں میں واضح ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ صوبے کے مسائل حل کرنے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں کامیاب ہوگی۔

لانگ مارچ اور گرفتاریوں سے متعلق دعوے

فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور رہنماؤں کی گرفتاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بعض رہنما خود گرفتاری کے خواہش مند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ واقعات کے دوران صوبائی کابینہ کے آٹھ ارکان اسلام آباد میں ان کے ساتھ موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا، جبکہ ان کے بقول بعد کے واقعات ان کے اندازوں کے مطابق پیش آئے۔ انہوں نے مارچ میں شرکا کی تعداد پر بھی تنقید کی۔

پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید

سینیٹر فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب عوام محض نعروں کے بجائے اپنے مسائل کے حل کو ترجیح دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کی کامیابی کا اصل معیار عوامی خدمت اور عملی کارکردگی ہونا چاہیے۔

عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے انہیں سیاست سکھائی اور وہ اس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کے مطابق وہ عمران خان کو مشکلات سے بچانا چاہتے تھے، تاہم پارٹی کے بعض افراد نے ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھایا۔

گورنر راج اور نئی کابینہ سے متعلق مؤقف

فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کے نزدیک گورنر راج کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے متعلق فیصلہ عوامی مفاد کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

نئی صوبائی کابینہ کے حوالے سے انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چھ ماہ صوبے کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ ان کے بقول اگر موجودہ کابینہ توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکی تو اس سے بہتر افراد کو ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں۔

بلوچستان میں بھی تبدیلیوں کا عندیہ

بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کی خواہش رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں اور دہشت گردی کے ساتھ سیاسی و معاشی بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

Leave a reply