
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سہیل آفریدی کی مبینہ حراست کے معاملے پر پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سہیل آفریدی کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
درخواست سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں مسلح اور نقاب پوش افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست کے مطابق، مبینہ واقعے کے وقت پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) بھی موقع پر موجود تھے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا ہے کہ کسی شخص کو نامعلوم مقام پر منتقل کرنا اور اس کی آزادی سلب کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10 اور 14 کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل آفریدی کی سلامتی اور قانونی حقوق کے تحفظ کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی سی پی او پشاور کو واقعے سے متعلق سیکیورٹی ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ بنانے کی ہدایت کی جائے اور ان کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
مزید برآں، درخواست گزار نے واقعے کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔
دوسری جانب، فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس اور گورنر فیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے آٹھ رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کی تھی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام امن و امان کی صورت حال اور متعلقہ رہنماؤں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا، جبکہ اسے باقاعدہ گرفتاری قرار نہیں دیا گیا۔
نوٹ: یہ خبر فراہم کردہ متن کی بنیاد پر نئے الفاظ اور الگ اسلوب میں مرتب کی گئی ہے۔ اشاعت سے پہلے تمام دعوؤں اور تازہ صورت حال کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔









