
ملتان: کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کو ملتان میں حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 4 مسافر جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ٹرین کی تمام 14 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ ریسکیو 1122 کے مطابق 36 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ 2 افراد کو جائے حادثہ پر ہی طبی امداد دی گئی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے چاروں افراد کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کردی گئیں۔
زخمیوں کو طبی امداد کے لیے نشتر اسپتال سمیت متعلقہ طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کے علاج معالجے کے انتظامات کیے گئے۔
حادثے کے باعث ریلوے کے اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدورفت معطل ہوگئی، جس سے دیگر ٹرینوں کا شیڈول بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کی جانب سے حادثے کی وجوہات جاننے کیلیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
وزیر ریلوے کا نوٹس، تحقیقات کا حکم
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کے لیے بہترین طبی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے جاں بحق اور زخمی مسافروں کو ریلوے انشورنس پالیسی کے تحت معاوضہ فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
وزیر ریلوے نے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلویز کو واقعے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے اور خود جائے حادثہ کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوگئے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کا اظہار افسوس
صدر مملکت آصف علی زرداری نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور متاثرہ مسافروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی۔
حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔









