
ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کے مسلسل استعمال اور ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے متعلق ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کے باعث لوگوں کو معلومات کے محدود اور یکساں ذرائع تک رسائی مل سکتی ہے۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس سے وابستہ محققین نے مختلف بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں 27 اے آئی چیٹ بوٹس کو 155 مختلف موضوعات پر پرکھا گیا۔
محققین کے مطابق چیٹ بوٹس سے حاصل ہونے والی معلومات میں گوگل سرچ کے مقابلے میں تنوع کم پایا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف صارفین کو ایک ہی موضوع پر نسبتاً ملتے جلتے جوابات موصول ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران محققین نے 200 تحریری ہدایات کے ذریعے اے آئی ماڈلز سے کروڑوں جوابات حاصل کیے اور ان کے درمیان معلوماتی تنوع کا تجزیہ کیا۔
نتائج کے مطابق جانچے گئے ماڈلز میں جی پی ٹی-5 کے جوابات میں نسبتاً زیادہ تنوع دیکھا گیا، تاہم محققین کے مطابق یہ تنوع بھی گوگل سرچ کے نتائج سے تقریباً 18.5 فیصد کم تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ معلومات حاصل کرنے کے لیے مسلسل چیٹ بوٹس پر انحصار کرتے رہے تو انہیں مختلف نقطۂ نظر اور متبادل معلومات کم مل سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں لوگوں کے معلومات حاصل کرنے اور دنیا کو سمجھنے کے طریقوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
تاہم تحقیق کے نتائج کو یہ ثابت کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا کہ اے آئی چیٹ بوٹس براہِ راست انسانی ذہانت کم کر دیتے ہیں۔ تحقیق بنیادی طور پر معلومات کے تنوع اور اے آئی پر انحصار کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتی ہے۔









