مصنوعی سویٹنر کے استعمال سے فالج کے دوران دماغی نقصان بڑھنے کا انکشاف

0
0
مصنوعی سویٹنر کے استعمال سے فالج کے دوران دماغی نقصان بڑھنے کا انکشاف

ویب ڈیسک: ایک نئی سائنسی تحقیق میں مصنوعی مٹھاس کے لیے استعمال ہونے والے سویٹنر ایسپرٹیم کے ممکنہ خطرات سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق فالج کے دوران اس کا استعمال دماغی خلیوں کو پہنچنے والے نقصان میں اضافہ کر سکتا ہے۔

چین کی فوڈان یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے تجربات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا ایسپرٹیم کا استعمال دماغ کو خون اور آکسیجن کی کمی، خصوصاً اسکیمک اسٹروک، کے دوران زیادہ نقصان کا شکار بنا سکتا ہے۔

تحقیق میں چوہوں کو ایک ہفتے تک ایسپرٹیم ملا پانی دیا گیا، جس کی مقدار انسانی روزانہ قابلِ قبول حد کے قریب بتائی گئی۔ بعد ازاں ان میں فالج جیسی کیفیت پیدا کرکے دماغ پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج کے مطابق جن چوہوں کو ایسپرٹیم نہیں دیا گیا تھا، ان میں دماغی نقصان تقریباً 24 فیصد رہا، جبکہ ایسپرٹیم استعمال کرنے والے گروپ میں یہ شرح تقریباً 59 فیصد تک پہنچ گئی۔

محققین نے خاص طور پر دماغ کے ان حصوں میں اعصابی خلیوں کو زیادہ نقصان نوٹ کیا جو یادداشت، سوچ اور دیگر اہم ذہنی صلاحیتوں سے وابستہ ہیں۔

لیبارٹری میں کیے گئے اضافی تجربات سے یہ بھی سامنے آیا کہ ایسپرٹیم خلیوں کے اندر موجود مائٹوکونڈریا کی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ مائٹوکونڈریا خلیوں کو توانائی فراہم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اور تحقیق میں ان کی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

دوسری جانب، تجربات میں استعمال کیے گئے بعض دیگر مصنوعی سویٹنرز، جن میں سکرالوز اور ایسیسلفیم پوٹاشیم شامل تھے، کے حوالے سے اسی نوعیت کا زہریلا اثر سامنے نہیں آیا۔

سائنسدانوں کے مطابق ایسپرٹیم ممکنہ طور پر خلیوں کے ان حفاظتی نظاموں کو بھی متاثر کرتا ہے جو آکسیجن کی کمی اور جسمانی دباؤ کی صورتحال میں خلیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ نتائج بنیادی طور پر تجرباتی اور جانوروں پر ہونے والی تحقیق سے حاصل ہوئے ہیں، اس لیے انہیں براہِ راست انسانوں پر لاگو کرنے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ موجودہ ریگولیٹری ادارے مقررہ مقدار میں ایسپرٹیم کے استعمال کو محفوظ قرار دیتے ہیں۔

تحقیق نے بہرحال فالج کے دوران ایسپرٹیم اور دماغی نقصان کے ممکنہ تعلق پر مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

Leave a reply