شعلوں سے پہلے کیا جل چکا تھا؟

شعلوں سے پہلے کیا جل چکا تھا؟

تحریر:عبداللہ

حادثے اچانک دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی بنیاد اکثر برسوں پہلے رکھی جا چکی ہوتی ہے۔ ایک تار کی معمولی خرابی، ایک ناکارہ الارم، ایک بند راستہ یا ایک نظر انداز کی گئی رپورٹ بظاہر کسی ایک دن کا واقعہ لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ طویل عرصے سے جاری غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور کمزور نگرانی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے بڑے سرکاری اسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ ان ننھی جانوں کے جانے کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے والدین کے لیے یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ پوری زندگی کا ایسا زخم ہے جو شاید کبھی مندمل نہ ہو۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر بڑے سانحے کے بعد اصل سوال چند دنوں میں پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ پہلے غم، پھر غصہ، اس کے بعد الزامات، پریس کانفرنسیں، انکوائری کمیٹی اور معطلیاں۔ حکومتیں فوری طور پر کسی ذمہ دار کو تلاش کر کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ چند ہفتوں بعد شور ختم ہوتا ہے اور نظام دوبارہ اسی رفتار سے چلنے لگتا ہے جس رفتار سے سانحے سے پہلے چل رہا تھا۔

اصل مسئلہ یہی ہے۔

ہم حادثے کا علاج کرتے ہیں، حادثے کی وجہ کا نہیں۔

ایک جدید اسپتال صرف ڈاکٹر، نرس، دوا اور آپریشن تھیٹر کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ نظام ہے جس میں بجلی، جنریٹرز، ایئر کنڈیشننگ، وینٹی لیشن، آکسیجن سپلائی، فائر الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، پانی، گیس، لفٹس، آئی ٹی، سیکیورٹی اور عمارت کی ساخت ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی ایک نظام کی سنگین خرابی پورے اسپتال کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

اسی لیے اسپتال چلانا محض طبی علم کا کام نہیں۔ ڈاکٹر کا بنیادی میدان مریض کا علاج ہے، جبکہ ایک بڑے اسپتال کی روزمرہ انتظامی اور تکنیکی ضروریات کے لیے انجینئرز، فائر سیفٹی ماہرین، بائیومیڈیکل انجینئرز، الیکٹریکل ماہرین، مینجمنٹ پروفیشنلز اور تربیت یافتہ سیفٹی اسٹاف کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے سرکاری اسپتالوں میں المیہ یہ ہے کہ ذمہ داری تو سب کی ہوتی ہے، مگر جواب دہی اکثر کسی ایک شخص پر ڈال دی جاتی ہے۔

حادثہ ہو تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سب سے آسان ہدف بن جاتا ہے۔ اسے معطل کر دیا جاتا ہے، شوکاز نوٹس جاری ہوتا ہے اور حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس نے کارروائی کر دی۔ لیکن وہ بجلی کا نظام کس نے منظور کیا؟ حفاظتی معائنہ کب ہوا؟ فائر الارم فعال تھا یا نہیں؟ ایمرجنسی راستے قابل استعمال تھے یا نہیں؟ آکسیجن لائنوں کے قریب برقی تنصیبات کس معیار کے مطابق لگائی گئیں؟ مینٹیننس کا ریکارڈ کہاں ہے؟ ان سوالات کے جواب اکثر اصل کہانی سامنے لا سکتے ہیں۔

یہاں ہمیں ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے: ذمہ داری عہدے کے بجائے کام کے ساتھ منسلک ہونی چاہیے۔

جس افسر یا ادارے کی ذمہ داری برقی نظام کی حفاظت ہے، اسے جواب دینا چاہیے۔ جس کی ذمہ داری فائر سیفٹی ہے، اس سے سوال ہونا چاہیے۔ جس کمپنی یا ٹھیکیدار نے ناقص تنصیب کی، اسے بھی احتساب کا سامنا ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی انتظامی سربراہ نے واضح حفاظتی خطرے کے باوجود آنکھیں بند رکھیں تو اسے بھی جواب دہ ہونا چاہیے۔

محض معطلی مسئلے کا حل نہیں۔ معطلی اکثر کارروائی کا تاثر تو دیتی ہے، مگر نظام کی اصلاح نہیں کرتی۔

دوسرا بڑا مسئلہ مینٹیننس کا ہے۔

ہم عمارت بنانے پر اربوں خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اسے محفوظ حالت میں رکھنے کے لیے مستقل بجٹ، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ معائنہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوتا۔ نئی عمارت کا افتتاح ایک تقریب بن جاتا ہے، مگر چند سال بعد اس کی وائرنگ، جنریٹر، پائپنگ، فائر الارم اور دیگر بنیادی نظام کس حالت میں ہیں، اس کی فکر کم ہی کی جاتی ہے۔

اسپتال میں حفاظتی نظام کا مقصد حادثے کے بعد کام کرنا نہیں بلکہ حادثہ ہونے سے پہلے خطرے کی نشاندہی کرنا ہے۔

اگر فائر الارم صرف فائل میں موجود ہو، اگر فائر ایکسٹنگوشر صرف دیوار پر لٹکا ہو مگر قابل استعمال نہ ہو، اگر ایمرجنسی دروازہ سامان سے بھرا ہو، اگر عملے کو انخلا کی مشق کا تجربہ نہ ہو تو پھر ہم دراصل حفاظت کا نظام نہیں بلکہ ایک خطرناک خوش فہمی پال رہے ہوتے ہیں۔

حساس وارڈز میں یہ غفلت کئی گنا زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ نوزائیدہ بچوں، انتہائی نگہداشت کے مریضوں اور ایسے افراد جو خود حرکت نہیں کر سکتے، ان کے لیے چند منٹ بھی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ وہاں فائر سیفٹی ایک اضافی سہولت نہیں بلکہ زندگی بچانے کا بنیادی نظام ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسپتالوں کی حفاظت کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی نظام بنایا جائے۔

ہر بڑے اسپتال کا باقاعدہ آزاد سیفٹی آڈٹ ہونا چاہیے۔ یہ آڈٹ اسی ادارے سے نہیں ہونا چاہیے جو روزمرہ نگرانی کا ذمہ دار ہو، بلکہ کسی آزاد اور اہل ادارے سے کرایا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں صرف خامیوں کی نشاندہی کافی نہیں؛ ہر خامی کے ساتھ اصلاح کی آخری تاریخ، ذمہ دار افسر اور عمل درآمد کی تصدیق بھی ضروری ہونی چاہیے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ سیفٹی آڈٹ کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ جس ادارے میں عوام اپنے پیاروں کا علاج کرواتے ہیں، انہیں یہ جاننے کا حق ہے کہ وہاں بنیادی حفاظتی معیار پورے ہو رہے ہیں یا نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اسپتال انتظامیہ کے ڈھانچے پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ طبی اور غیر طبی انتظام کو ایک ہی شخص کے کندھوں پر ڈال دینا ہر بڑے ادارے کے لیے موزوں ماڈل نہیں۔ ایک طرف مضبوط کلینیکل قیادت ہو اور دوسری طرف تربیت یافتہ پروفیشنل انتظامی ٹیم جو انجینئرنگ، مالیات، پروکیورمنٹ، مینٹیننس، سیفٹی اور آپریشنز کی نگرانی کرے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ تقرریاں سفارش کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر ہوں۔ اگر فائر سیفٹی کا افسر صرف تعلقات کی بنیاد پر تعینات ہوگا، اگر مینٹیننس کا ٹھیکہ میرٹ کے بغیر دیا جائے گا اور اگر ناقص کام پر کوئی سزا نہیں ہوگی تو کسی بھی جدید عمارت کا انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہ سکتا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سانحہ صرف اس وقت شروع نہیں ہوتا جب شعلے بھڑکتے ہیں۔ سانحہ اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب ایک خرابی پہلی مرتبہ نوٹ ہونے کے باوجود دور نہیں کی جاتی، جب ایک حفاظتی رپورٹ الماری میں بند ہو جاتی ہے، جب ایک ناقص نظام کو عارضی مرمت کے ذریعے مزید چند ماہ چلایا جاتا ہے اور جب ذمہ دار افسر یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ ’’ابھی تک کچھ ہوا تو نہیں‘‘۔

یہی ’’ابھی تک کچھ نہیں ہوا‘‘ والا رویہ بالآخر ’’سب کچھ ہو گیا‘‘ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

پمز کا سانحہ ہمیں صرف غم زدہ نہیں کرنا چاہیے، ہمیں بے چین بھی کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر اس واقعے کے بعد بھی ہم صرف ذمہ داروں کے تعین، چند معطلیوں اور مالی امداد تک محدود رہے تو ہم نے اصل سبق حاصل نہیں کیا۔

اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم ایسا نظام بنا سکتے ہیں جہاں حادثہ ہونے کے بعد مجرم تلاش کرنے کے بجائے حادثہ ہونے سے پہلے خطرہ تلاش کیا جائے؟

کیا ہم اسپتالوں میں فائر ڈرل کو رسمی کارروائی کے بجائے زندگی بچانے کی تربیت سمجھ سکتے ہیں؟

کیا ہم بجلی، آکسیجن، وینٹی لیشن اور فائر سیفٹی جیسے معاملات کو انتظامیہ کی ترجیحات میں اوپر لا سکتے ہیں؟

کیا ہم ٹھیکیدار، انجینئر، انتظامی افسر اور سربراہ سب کو ان کی حقیقی ذمہ داری کے مطابق جواب دہ بنا سکتے ہیں؟

اگر ان سوالات کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو شاید اس سانحے سے کوئی مثبت تبدیلی جنم لے سکے۔

ورنہ تاریخ ہمیں بار بار وہی منظر دکھاتی رہے گی: حادثہ، دھواں، چیخیں، آنسو، تحقیقات، معطلیاں، وعدے۔۔۔ اور پھر خاموشی۔

ہمیں اس خاموشی کو توڑنا ہوگا۔

کیونکہ اسپتال وہ جگہ ہے جہاں انسان زندگی بچانے کی امید لے کر جاتا ہے۔ اگر وہاں غفلت، ناقص انتظام اور حفاظتی بے حسی ہی اس کی جان لے لے تو مسئلہ صرف ایک اسپتال کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ کٹہرے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔

اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگلا سانحہ ہونے سے پہلے ہم جاگیں گے یا پھر کسی اور خاندان کے چراغ بجھنے کا انتظار کریں گے؟

Leave a reply