2 سال کی عمر میں اغوا ہونے والا بچہ 32 سال بعد والدین کو مل گیا

0
300
2 سال کی عمر میں اغوا ہونے والا بچہ 32 سال بعد والدین کو مل گیا

2 سال کی عمر میں اغوا ہونے والا بچہ 32 سال بعد والدین کو مل گیا

ایک شخص، جو بچپن میں اغوا ہوتا ہے، 32 سال بعد اپنے حقیقی والدین سے دوبارہ جا ملتا ہے، 1992 میں بری امام سے 2 سالہ بچہ اغوا ہوا، جس کا نام محمد صدیق تھا، اغوا کاروں نے اس کا نام محمد آصف رکھ دیا اور اسے سرگودھا کے گاؤں جھانوریا لے گئے، محمد آصف کا کہنا ہے کہ اغوا کار ایک خاتون تھی، اس کے 3 بھائی اور والدہ تھی۔

اسے بڑے بھائی کے ساتھ رکھا گیا اور اسی نے بتایا کہ وہ اغوا شدہ ہے، آصف نے بتایا کہ اسے خود نہیں پتہ تھا کہ اسے اغوا کیا گیا ہے، لیکن وہ ہمیشہ پیار سے محروم رہا، دس سال کی عمر میں وہ ایک نیک دل وکیل کی سرپرستی میں آ گیا، آصف نے الیکٹریشن کا کام سیکھا اور 2017 میں شادی کر لی، والدین سے ملاقات کی خواہش دل میں رہی۔

پھر اس نے ایک سماجی کارکن سے ملا جو سوشل میڈیا پر گمشدہ افراد کی ویڈیوز اپلوڈ کرتے تھے، پھر آصف کے والدین سے رابطہ ہوا اور 32 سال کے بعد وہ اپنے حقیقی والدین سے جا ملا، اس کے والدین کہا کہ ہم نے کبھی ہار نہیں مانی، کوئی دن ایسا نہیں جب بیٹے کو یاد نہ کیا ہو، یہ بچہ ان کے لیے سب سے قیمتی تھا، اور اس ملاقات نے ان کو نئی زندگی ملی ہے۔

Leave a reply