“ہماری اذیت کچھ نہیں، غزہ کے بچوں کو بچائیں: گریٹا کی عالمی اپیل”

Swedish acti"ہماری اذیت کچھ نہیں، غزہ کے بچوں کو بچائیں: گریٹا کی عالمی اپیل"vist Greta Thunberg, who was part of the Global Sumud Flotilla seeking to deliver aid to Gaza and was detained by Israel, delivers a statement upon her arrival to the Athens Eleftherios Venizelos International Airport, in Athens, Greece, October 6, 2025. REUTERS/Louisa Gouliamaki TPX IMAGES OF THE DAY
سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور درجنوں دیگر کارکنان اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد یونان پہنچ گئے، جہاں فلسطین کے حامی افراد نے ایتھنز ائیرپورٹ پر ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔
گریٹا تھنبرگ ان سینکڑوں کارکنوں میں شامل تھیں جنہیں اسرائیلی فورسز نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے ذریعے غزہ کے محاصرے کو چیلنج کرتے ہوئے وہاں امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
یونانی حکام کے مطابق، ایک خصوصی پرواز کے ذریعے 161 افراد کو پیر کے روز ایتھنز منتقل کیا گیا، جن میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے۔ مجموعی طور پر 479 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے 341 کو اب تک اسرائیل سے بےدخل کیا جا چکا ہے۔
ایتھنز ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے کہا، “غزہ میں جاری صورتحال کو نسل کشی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ ہم پر جو ظلم ہوا وہ اپنی جگہ، لیکن اصل ظلم غزہ کے معصوم شہریوں پر ہو رہا ہے۔”
انہوں نے عالمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اسرائیل کو جنگی جرائم سے روکنے میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔
اسرائیلی حراست کے دوران کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، بنیادی ضروریات جیسے پانی اور خوراک نہیں دی گئیں، اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سویڈن سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گریٹا تھنبرگ کو زبردستی اسرائیلی جھنڈا تھمانے کی کوشش کی گئی، جبکہ دیگر کارکنوں کی دوائیں اور ذاتی سامان ضبط کر لیا گیا۔
اس سے قبل ہسپانوی، سوئس اور دیگر ممالک کے کارکنوں نے بھی اسرائیلی حکام پر حراست کے دوران بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
گریٹا تھنبرگ نے کہا، “ہم نے صرف وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ہماری حکومتوں کو کرنا چاہیے تھا — مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا، اور انسانیت کے لیے آواز بلند کرنا۔”







