
ملازم قمر شہزاد کی ملازمت سے برطرفی کا حکم بھی معطل
لاہور ھائیکورٹ نے پنجاب پبلک سروس کمیشن اور لٹریسی ڈیپارٹمنٹ پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئےلٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے 138 ملازمین کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی سےروکتے ہوئے قمر شہزاد نامی درخواست گزار کے نوکری سے برطرفی کے حکم کو بھی معطل کر دیا ھے
قمر شہزاد اور 138 دوسرے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین نے حافظ طارق نسیم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے توسط سے مشترکہ رٹ گزاری۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ انھوں نے این ٹی ایس کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور انھیں پہلے ایک پراجیکٹ پر کنٹریکٹ پر ملازم رکھا گیا لیکن بعد میں یہ پراجیکٹ ختم کرکے نان پراجیکٹ میں بدل دیا گیا اور تمام ملازمین کو اس میں کھپا دیا گیا۔
کچھ ملازمین 2006 سے اور کچھ 2016 سے مسلسل ملازمت کر رہے ہیں
حافظ طارق نسیم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ 2018/19 میں پنجاب ریگولائزیشن ایکٹ آیا تو رٹ کنندگان نے محکمہ کو ملازمت ریگولر کرنے کےلئے درخواست دی لیکن محکمہ نے ان کو ریگولر نہیں کیا جس پر انھوں نے ھائیکورٹ لاہور میں رٹ گزاری جو 25 اکتوبر21 کو منظور کرلی گئی۔ پنجاب حکومت نے اسکے خلاف اپیل کی جو 14.09.22 کو مسترد کر دی گئی۔پنجاب حکومت نے پھر ایک ریویو پٹیشن گزاری لیکن یہ بھی 6 جون 23 کو خارج ہوگئی اور آخر کار سپریم کورٹ پاکستان سے اپیل بھی مسترد ہوگئی
حکومت پنجاب نے چالاکی سے ان ملازمین کو پنجاب پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر مستقل کر نے کی بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو لیٹر لکھا کہ اپنی سفارشات واپس لے اور اس دوران ایک ملازم قمر شہزاد کو 29 جولائی 24 کو ملازمت سے فارغ کردیا جبکہ 138 دوسرے ملازمین کے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے نتائج کو روک لیا۔ جسٹس انوار حسین نے عدالت میں موجود پنجاب پبلک سروس کمیشن اور سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ رٹ کنندگان کو ملازمت میں مستقل کرنے کے بارے میں ھائیکورٹ اور سپریم۔کورٹ کے آحکامات جو حتمی فیصلہ کی صورت اختیار کر گئے ہیں کس قانون کے تحت پنجاب پبلک سروس کمیشن کے نتائج کو روکا گیا۔۔
اور رٹ کنندہ کو کس قانون کے تحت ملازمت سے فارغ کیا گیا جس پر لا افسران عدالت کو مطمئین نہ کر سکے۔ فاضل عدالت نے حکومت پنجاب اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قمر شہزاد کی ملازمت سے فارغ کر نے کے حکم کو معطل اور باقی 138 ملازمین کے خلاف کسی قسم کے تادیبی کارروائی کو روکنے کا حکم جاری کردیا۔









