
گوگل نے اپنی معروف نیوی گیشن ایپ میپس میں ایک جدید آرٹی فیشل انٹیلی جنس فیچر شامل کر دیا ہے جو صارفین کے لیے راستہ تلاش کرنے کے تجربے کو مزید آسان اور اسمارٹ بنا دے گا۔
یہ فیچر گوگل کے جیمنائی اے آئی ماڈل پر مبنی ہے، جسے ابتدائی طور پر ڈرائیونگ کے دوران ہینڈز فری نیوی گیشن کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، تاکہ صارفین بغیر اسکرین چھوئے ہدایات حاصل کر سکیں۔
اب گوگل نے اس فیچر کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے اسے پیدل چلنے اور سائیکل استعمال کرنے والوں کے لیے بھی فراہم کر دیا ہے۔ اس توسیع کے بعد جیمنائی فار میپس ہر قسم کے سفر میں صارفین کی رہنمائی کر سکے گا۔
گوگل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اے آئی فیچر مرحلہ وار دنیا بھر میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ جن ممالک میں جیمنائی ماڈل دستیاب ہے، وہاں گوگل میپس کے صارفین اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
تاہم یہ فیچر صرف اینڈرائیڈ اور آئی او ایس موبائل ڈیوائسز تک محدود ہوگا جبکہ ویب ورژن پر دستیاب نہیں ہوگا۔
نئے فیچر کے ذریعے اگر کوئی صارف کسی انجان علاقے میں پیدل چل رہا ہو یا سائیکل چلا رہا ہو تو وہ محض “اوکے گوگل” کہہ کر اردگرد کے مقامات، راستوں یا دیگر معلومات کے بارے میں سوال کر سکتا ہے، جس پر جیمنائی فوری آواز کے ذریعے جواب فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ صارفین جیمنائی کی مدد سے دورانِ سفر پیغامات بھی بھجوا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ پہلے اے آئی کو متعلقہ اجازت دے دیں۔
گوگل کے مطابق یہ نیا فیچر آنے والے چند ہفتوں میں دنیا بھر کے صارفین کے لیے دستیاب ہو جائے گا اور نیوی گیشن کو مزید ذہین اور سہل بنا دے گا۔









