گوگل جی میل میں مصنوعی ذہانت کا نیا انقلاب: صارفین کی پرائیویسی پر سوالات

0
102
گوگل جی میل میں مصنوعی ذہانت کا نیا انقلاب: صارفین کی پرائیویسی پر سوالات

گوگل اپنے مشہور ای میل پلیٹ فارم جی میل میں ایک بڑی تبدیلی لا رہا ہے، جس کا اثر دنیا بھر کے تقریباً دو ارب صارفین پر پڑے گا۔ اس تبدیلی کا مرکز اب مصنوعی ذہانت (AI) ہے، جسے گوگل نے جی میل کا لازمی حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئی خصوصیات کے مطابق، جی میل میں شامل کی جانے والی AI ٹیکنالوجی، جسے گوگل “جیمنائی” کہتا ہے، نہ صرف ای میلز لکھنے اور طویل پیغامات کا خلاصہ کرنے میں مدد کرے گی بلکہ آپ کے ان باکس میں موجود مواد کی بنیاد پر آپ کے سوالات کے بھی جواب دے سکے گی۔
اگرچہ یہ اپڈیٹ سہولت کے لحاظ سے اہم ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صارف کی پرائیویسی کے لیے چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ جی میل کے نائب صدر بلیک بارنز نے اس ضمن میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جیمنائی ایک ذاتی معاون کی طرح کام کرے گا اور صارف کے کام مکمل ہونے کے بعد ڈیٹا کو بھول جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ گوگل صارف کی ای میلز کو AI کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کرے گا، لیکن حساس معلومات کے اسکین ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا۔
صارفین کے لیے اہم ہدایات:
نئی AI خصوصیات عام طور پر ڈیفالٹ کے طور پر فعال ہوں گی، اس لیے صارف کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کتنی معلومات AI کے ساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں۔
اپ ڈیٹس کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ ایک بار ڈیٹا AI سسٹم میں شامل ہو جائے تو اسے مکمل طور پر حذف کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے سیٹنگز میں تبدیلی کرنا اور AI کے استعمال کے حوالے سے خود فیصلہ کرنا ضروری ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ صرف ٹولز فراہم کر رہا ہے اور ان باکس کی حفاظت کا ذمہ دار صارف خود ہے۔ اس لیے صارفین کو چاہیے کہ وہ AI کی نئی سہولت کو محض آسانی کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اپنی ای میل کی سیکیورٹی اور پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کریں۔

Leave a reply