گولڈن بلڈ: انسانی جسم میں چھپا ایک سائنسی راز

0
158
گولڈن بلڈ: انسانی جسم میں چھپا ایک سائنسی راز

عام طور پر انسانی خون کے آٹھ بنیادی گروپ مانے جاتے ہیں، لیکن ماہرین ایک ایسے نہایت منفرد اور انتہائی کمیاب خون کی بھی نشاندہی کرتے ہیں جسے ’گولڈن بلڈ‘ یا Rh-null کہا جاتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں Rh سسٹم کے تمام اینٹی جن مکمل طور پر غیر موجود ہوتے ہیں، جو اسے دوسرے تمام گروپس سے منفرد بناتا ہے۔

دنیا بھر میں اس خون کی تصدیق شدہ تعداد 50 افراد سے بھی کم ہے، جس سے اس کی نایابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تخمینوں کے مطابق یہ نایاب خون تقریباً 60 لاکھ میں سے صرف ایک فرد میں پایا جاتا ہے۔ اس کی پہلی شناخت 1961 میں آسٹریلیا میں رپورٹ ہوئی تھی۔

چونکہ Rh-null کا کوئی عام ڈونر موجود نہیں ہوتا، اس لیے اس خون کا عطیہ دینا اور اسے محفوظ رکھنا نہایت حساس عمل سمجھا جاتا ہے۔ ایسے مریض جنہیں مخصوص جینیاتی یا طبی مسائل کے باعث انتہائی خاص خون کی ضرورت پڑتی ہے، ان کے لیے Rh-null ہی موزوں انتخاب ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح کے بلڈ بینک اس خون کو خاص نگرانی میں رکھتے ہیں۔

حال ہی میں فرانس کے کیریبین جزیرے گوادالوپ میں ایک نیا نایاب بلڈ گروپ دریافت ہوا ہے جسے ’گواڈا نیگیٹو‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ کمیاب اور منفرد خون اب بھی Rh-null ہی ہے، جسے بجا طور پر ’گولڈن بلڈ‘ کہا جاتا ہے۔

Leave a reply