گوادر کی مچھلی کھانے سے پالتو جانوروں کی اچانک موت، تحقیقات جاری

0
121
گوادر کی مچھلی کھانے سے پالتو جانوروں کی اچانک موت، تحقیقات جاری

بلوچستان کے علاقے کیچ میں مچھلی کھانے سے متعدد پالتو جانور ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ضلع گوادر سے مکران بھر میں ترسیل کی جانے والی مچھلیوں میں چھوٹی قسم کی مچھلی “کاشُک” یا “کےٹو” شامل ہے، جس کے پیٹ کی صفائی کے بعد اس کی آنتیں مرغیوں اور بلیوں کو دی گئیں، جن کے فوری ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ سمندری آلودگی کی وجہ سے مچھلیاں زہریلی ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے پالتو جانوروں کی ہلاکت ہوئی۔ تاہم، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق گوادر کے پانی میں آلودگی نہیں ہے اور مچھلیاں زہریلی ہونے کا امکان کم ہے۔ ممکنہ طور پر مچھلی نقصان دہ کائی کھانے کے باعث زہریلی ہو سکتی ہے یا پھر نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کے دوران آلودہ یا باسی ہو جانے کی وجہ سے جانوروں کی ہلاکت ہوئی ہو۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ٹیکنیکل ایڈوائزر محمد معظم خان نے کہا کہ گوادر کی سارڈینز کھانے سے عام طور پر کوئی خطرہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ مچھلی بڑی مقدار میں پاکستان سے برآمد بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ باسی یا خراب شدہ مچھلی پالتو جانوروں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، جو اس واقعے کی اصل وجہ ہو سکتی ہے۔

Leave a reply