
کراچی کے مرکزی اور مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی شدید آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ آتشزدگی کے دوران عمارت کا ایک اور حصہ منہدم ہو گیا جس کے باعث امدادی کارروائیاں مزید خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئیں۔
ریسکیو اداروں کے مطابق ملبے سے ایک اور لاش نکالی گئی ہے، جس کی شناخت فائر فائٹر فرقان کے نام سے ہوئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے، جبکہ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
حکام کے مطابق آگ ہفتے کی شب تقریباً سوا دس بجے پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی جو تیزی سے میزنائن اور پھر بالائی منزلوں تک پھیل گئی۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا، جبکہ عمارت سے مسلسل دھواں اٹھ رہا ہے۔
آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی جانب سے 20 فائر ٹینڈرز اور چار اسنارکلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پانی اور فوم کے ذریعے شعلوں کو قابو میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاک بحریہ بھی اپنے فائر ٹینڈرز اور تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں شریک ہے۔
شدید گرمی، دھویں اور کمزور ہوتی عمارت کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 20 سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہو چکے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں کاشف، فراز، عامر، وزیر اور فرقان شامل ہیں جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ ریسکیو حکام کا خدشہ ہے کہ عمارت کے اندر مزید افراد موجود ہو سکتے ہیں۔
پاک بحریہ کے حکام کے مطابق پانچ فائر ٹینڈرز اور 70 اہلکار سرچ اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ بحریہ کی ٹیم نے ایک لاش نکالی جبکہ دیگر اداروں نے مزید لاشیں برآمد کیں۔
ریسکیو کے دوران ایک حادثہ بھی پیش آیا جب فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق آگ ایک دکان میں موجود آتش گیر سامان سے لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گیس لیکیج کے باعث دھماکے کی آواز بھی سنی گئی جس کے بعد آگ کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔
گل پلازہ میں تقریباً 1200 دکانیں قائم تھیں، جن میں سے گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں مکمل طور پر جل چکی ہیں۔ تاجروں کے مطابق اس حادثے میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ عمارت بہت پرانی اور خستہ حالت میں تھی، جبکہ آگ کے باعث اس کے ستون مزید کمزور ہو گئے ہیں۔ ایک حصہ گرنے کے بعد مزید منہدم ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ درجنوں افراد کے اندر پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق پاک بحریہ، رینجرز اور ریسکیو ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ پر مکمل قابو پانے اور سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی نقصان اور آگ لگنے کی حتمی وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔









