گل پلازہ ایسوسی ایشن صدر نے ریسکیو سست روی کو ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا

0
16
گل پلازہ ایسوسی ایشن صدر نے ریسکیو سست روی کو ہلاکتوں کی وجہ قرار دیا

کراچی: گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے گل پلازہ سانحے میں ہونے والی اموات کے ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو قرار دیا ہے۔
تنویر پاستا نے عدالتی کمیشن کو جمع کرائے گئے اپنے جواب میں بتایا کہ فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی 10:55 پر پہنچی، لیکن 20 منٹ کے اندر فائر ٹینڈر میں پانی ختم ہوگیا۔ مزید دو ٹینڈر 11:30 بجے پہنچے، تب تک آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر پھیل چکی تھی۔
صدر ایسوسی ایشن نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا، فائر فائٹرز کے پاس فوم یا کیمیکل بھی نہیں تھا، اور ابتدائی ریسکیو کارروائیاں بہت سست تھیں۔ مارکیٹ انتظامیہ نے اپنی مدد آپ کے تحت نجی ٹینکرز کا انتظام کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امدادی سرگرمیاں فجر کے بعد متحرک ہوئیں، تب تک آگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ عمارت میں پھنسے کچھ افراد کو اپنی مدد آپ کے تحت نکالا گیا، جبکہ مناسب ریسکیو سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کئی افراد کو بچایا نہیں جا سکا۔
تنویر پاستا نے کہا کہ بجلی بند ہونے کی وجہ سے باقاعدہ اعلانات نہیں کیے جا سکے، تاہم انتظامیہ اور دکانداروں نے آوازیں لگا کر لوگوں کو باہر نکلنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں ساڑھے 3 ہزار افراد موجود تھے، اور بیشتر افراد کو عمارت سے نکال لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ عمارت کے 16 راستے کھلے تھے اور ہزاروں افراد انہی راستوں سے باہر نکلے۔ دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا، تاہم اس میں تالا نہیں تھا۔ ممکنہ طور پر آگ کی شدت سے اسپرنگ متاثر ہونے کے باعث شٹر بند ہوا۔
تنویر پاستا نے یہ بھی بتایا کہ گل پلازہ میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس، اسپرے اور دیگر آتش گیر سامان موجود تھا، اور چھت پر سات ڈیزل جنریٹر تھے جن میں سے پانچ فعال تھے۔ جاں بحق 72 افراد میں سے 51 مارکیٹ سے وابستہ تھے۔
جوڈیشل کمیشن کے ذرائع کے مطابق صدر ایسوسی ایشن نے دکانوں کے ٹائٹل، قانونی حیثیت، اور مینٹیننس کی وصولی کے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں، نیز غیر رجسٹرڈ تنظیم کے بائی لاز بھی جمع نہیں کیے گئے۔

Leave a reply