گروک نے نیتن یاہو کی وائرل ویڈیو کو مبینہ ڈیپ فیک قرار دے دیا

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ ویڈیو میں انہیں ایک کیفے میں کافی آرڈر کرتے اور اپنے بارے میں پھیلنے والی افواہوں پر مزاحیہ انداز میں ردِعمل دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو نیتن یاہو کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے مختلف تبصرے اور دعوے کرنا شروع کر دیے۔
وائرل ویڈیو میں وہ عبرانی زبان میں کہتے ہیں کہ ’’کافی کے لیے مر رہا ہوں‘‘۔ عبرانی زبان میں یہ جملہ کسی چیز کو بہت پسند کرنے کے اظہار کے طور پر استعمال ہونے والا ایک محاورہ ہے۔
یہ ویڈیو ان افواہوں کے بعد سامنے آئی جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مبینہ طور پر ایران کے حملے میں نیتن یاہو ہلاک ہو گئے ہیں۔ ویڈیو میں وہ اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کیمرے کے سامنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنی انگلیاں بھی دکھاتے ہیں۔ اس سے قبل ان کی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو میں مبینہ طور پر چھ انگلیاں نظر آنے کا دعویٰ کیا گیا تھا جس کے بعد کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اسے اے آئی ڈیپ فیک قرار دیا تھا۔
تاہم نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ایک اور بحث شروع ہو گئی۔ بعض صارفین نے ویڈیو کو سست رفتار میں دیکھ کر دعویٰ کیا کہ جب نیتن یاہو کافی کا کپ اٹھا کر گھونٹ لیتے ہیں تو کپ میں موجود کافی کی سطح میں واضح کمی نظر نہیں آتی۔
کچھ صارفین کے مطابق کپ میں موجود جھاگ اور کافی تقریباً اسی سطح پر رہتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ اسے ’’کیمرے کے لیے جعلی گھونٹ‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ فریم بائی فریم ویڈیو دیکھنے پر نہ تو کافی کی سطح کم ہوتی نظر آتی ہے اور نہ ہی پینے کا واضح عمل دکھائی دیتا ہے، جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا گھونٹ حقیقی نہیں تھا۔
دوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ویڈیو کے زاویے، روشنی اور معیار کی وجہ سے ایسا محسوس ہو سکتا ہے، اس لیے بغیر تصدیق اسے جعلی قرار دینا درست نہیں۔
ادھر مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک کے مطابق وائرل ہونے والی یہ ویڈیو مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیک ہو سکتی ہے۔ اس کے مطابق ویڈیو میں نیتن یاہو کو ایک کافی شاپ میں کافی پیتے اور گفتگو کرتے دکھایا گیا ہے، تاہم اس نوعیت کے کسی عوامی واقعے کی واضح تصدیق سامنے نہیں آئی۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر سیاسی شخصیات کی ویڈیوز کے حوالے سے اے آئی ڈیپ فیک اور غلط معلومات کے خدشات بھی زیرِ بحث ہیں۔









