گرمیوں کے آغاز میں گنے کے رس کے استعمال پر ماہرین کی رائے اور احتیاطی ہدایات

0
56
گرمیوں کے آغاز میں گنے کے رس کے استعمال پر ماہرین کی رائے اور احتیاطی ہدایات

جیسے ہی موسمِ گرما کی آمد شروع ہوتی ہے، بازاروں اور سڑک کنارے گنے کا تازہ اور ٹھنڈا رس لوگوں کی پہلی پسند بن جاتا ہے۔ یہ مشروب نہ صرف پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کو فوری تازگی بھی فراہم کرتا ہے، اسی وجہ سے اسے کولڈ ڈرنکس کے نسبت ایک نسبتاً صحت مند متبادل بھی سمجھا جاتا ہے۔
تاہم ماہرین صحت اور آیورویدک اصولوں کے مطابق سال کے کچھ مخصوص اوقات میں گنے کے رس کا استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر مارچ اور اپریل کے مہینوں میں۔
ماہرین کے مطابق گنا ایک موسمی فصل ہے جو سردیوں میں تیار ہوتا ہے۔ جب یہ فصل دیر تک ذخیرہ کی جاتی ہے تو اس میں قدرتی طور پر خمیر (fermentation) کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اس سے نکالا گیا رس بعض افراد میں معدے کی خرابی، بدہضمی یا پیٹ کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
آیورویدک نقطۂ نظر کے مطابق یہ مہینے موسم کی تبدیلی کے ہوتے ہیں، جس دوران جسم میں بلغم یا “کف” کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ چونکہ گنے کا رس ٹھنڈی اور میٹھی تاثیر رکھتا ہے، اس لیے یہ کیفیت کو مزید بڑھا کر نزلہ، زکام، گلے کی خراش اور جسمانی سستی کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اس عرصے میں بھاری، خمیری اور کھٹی غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی ہاضمے کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ دہی، تلی ہوئی اشیا اور دیگر بھاری خوراک بھی محدود رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ جسمانی نظام بہتر طور پر کام کرتا رہے۔
ماہرین صحت اس موسم میں ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذاؤں کے استعمال پر زور دیتے ہیں۔ سَتّو، مونگ دال، اور تازہ سبزیاں اس وقت کے لیے بہتر انتخاب سمجھی جاتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نیم کے پتے بھی مفید قرار دیے جاتے ہیں، کیونکہ یہ جسم کی صفائی میں مدد دیتے ہیں اور قدرتی طور پر ڈیٹاکس کا کام کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ گنے کا رس ایک مقبول اور توانائی بخش مشروب ہے، لیکن موسم اور جسمانی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا استعمال اعتدال اور احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔

Leave a reply