
گرمیوں کے موسم میں جسمانی پسینے میں اضافہ کے ساتھ جلد کے مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں، جن میں گرمی دانے سب سے عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دانے متعدی نہیں ہوتے اور کسی انفیکشن کا نتیجہ بھی نہیں، بلکہ یہ زیادہ تر جسم کے درجہ حرارت اور پسینے کے نظام سے جڑے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق جب پسینے کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور پسینہ جلد کے نیچے ہی جمع رہتا ہے تو چھوٹے باریک دانے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ان حصوں میں نظر آتے ہیں جہاں پسینہ زیادہ آتا ہے یا جلد آپس میں رگڑ کھاتی ہے، جیسے گردن، سینہ، کمر اور بغلیں۔ تنگ کپڑے پہننا، زیادہ پسینہ آنا اور جلد کا رگڑ کھانا اس مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔ بچے، باہر کام کرنے والے اور وہ لوگ جو زیادہ دیر دھوپ میں رہتے ہیں، اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گرمی دانے اور الرجی میں فرق
گرمی دانے صرف پسینے والی جگہوں پر چھوٹے دانوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور ہلکی جلن یا چبھن پیدا کرتے ہیں۔ جبکہ الرجی میں بڑے اور ابھرے دانے بنتے ہیں جو جسم کے کسی بھی حصے میں آ سکتے ہیں اور زیادہ خارش کے ساتھ جلدی غائب ہو جاتے ہیں۔
گرمی دانوں سے بچاؤ کے طریقے
ماہرین کے مطابق گرمی دانوں سے بچاؤ کے لیے چند آسان اقدامات مفید ہیں:
مناسب لباس پہنیں: نائلون یا پالیسٹر کی بجائے ہلکے اور ڈھیلے سوتی کپڑے پہنیں تاکہ ہوا کی گزرگاہ ہو۔
جلد کی صفائی: روزانہ ٹھنڈے پانی سے نہائیں اور پسینہ آنے پر جلد خشک کریں۔ گیلا کپڑا فوری تبدیل کریں۔
دھوپ سے بچاؤ: دوپہر کے وقت سورج کی تپش سے بچیں اور زیادہ وقت ہوادار یا اے سی والے کمروں میں گزاریں۔
غذا اور گھریلو علاج
گرمی دانوں کی شدت کم کرنے کے لیے پانی کی مقدار بڑھائیں اور تربوز، خربوزہ، کھیرا، ناریل اور لیموں پانی استعمال کریں۔
متاثرہ جلد پر ایلوویرا جیل یا صندل کا پیسٹ لگانے سے جلن اور سرخی کم ہوتی ہے۔ نہانے کے پانی میں تھوڑا سا میٹھا سوڈا یا جو کا دلیہ شامل کرنا بھی فائدہ مند ہے۔
گرمی دانوں کا پاؤڈر لگانے سے ٹھنڈک کا احساس اور پسینہ جلد خشک ہو جاتا ہے۔ خواتین اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی لگا کر جلن کم کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی دانے ایک عام مگر کنٹرول کرنے والا مسئلہ ہیں، اور مناسب احتیاط سے گرمیوں میں اس سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔








