گردوں کی بیماری دنیا کی 10 بڑی جان لیوا بیماریوں میں شامل

0
201
گردوں کی بیماری دنیا کی 10 بڑی جان لیوا بیماریوں میں شامل

تازہ عالمی رپورٹ کے مطابق گردوں کی دائمی بیماری اب دنیا بھر میں اموات کی دس بڑی وجوہات میں شامل ہو گئی ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 کروڑ افراد اس بیماری سے متاثر ہیں، لیکن زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ ان کے گردے خراب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990 سے اب تک گردوں کی بیماری کے کیسز میں دگنا اضافہ ہوا ہے، اور صرف 2023 میں تقریباً 14 لاکھ 80 ہزار افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے۔

سب سے زیادہ متاثرہ ممالک

گردوں کی بیماری کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین، بھارت، امریکہ، انڈونیشیا، جاپان، برازیل، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران اور ترکی شامل ہیں۔ ان ممالک میں گردوں کی بیماری کے کیسز کی تعداد بڑھنے کی بڑی وجوہات میں طرزِ زندگی، بڑھتی عمر، موٹاپا اور شوگر کی بیماری شامل ہیں۔

گردوں کی بیماری کی اہم وجوہات

ڈاکٹرز کے مطابق گردوں کی بیماری کے سب سے بڑے اسباب درج ذیل ہیں:

شوگر یا بلند خون میں شکر: خون میں مسلسل زیادہ شکر گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر: بلند فشار خون گردوں کی نالیوں کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کرتے۔

موٹاپا: زیادہ وزن گردوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے اور بیماری کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔

عمر کا بڑھنا: جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، گردوں کی کارکردگی قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے۔

ماحولیاتی عوامل: گرم درجہ حرارت، آلودگی اور پانی کی کمی گردوں کی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ابتدائی علامات جنہیں نظرانداز نہ کریں

گردوں کی بیماری ابتدائی مراحل میں اکثر خاموش رہتی ہے، لیکن کچھ علامات پر توجہ دینا زندگی بچا سکتی ہے:

جسم میں مسلسل تھکن یا کمزوری

پیروں، ٹخنوں یا چہرے پر سوجن

پیشاب کا جھاگدار یا بدبو دار ہونا

بھوک میں کمی یا متلی

خارش یا جلد کا خشک ہونا

سانس پھولنا

غیر ارادی وزن میں کمی

تشخیص اور بچاؤ

ماہرین صحت کے مطابق بلڈ پریشر، شوگر اور پیشاب کے باقاعدہ ٹیسٹ کروانا بیماری کی بروقت شناخت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر گردوں کی بیماری کا علاج ابتدائی مراحل میں شروع کیا جائے تو یہ مکمل فیل ہونے سے بچ سکتا ہے۔

ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ گردوں کی بیماری ایک خاموش قاتل ہے، اور اکثر لوگ تب تک بیماری کا پتہ نہیں چلتا جب تک گردے شدید نقصان کا شکار نہ ہو جائیں۔ وقت پر چیک اپ اور صحت مند طرزِ زندگی ہی گردوں کی حفاظت کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

Leave a reply