
ہمارے گھروں میں آلو روزمرہ کھانوں کا لازمی جزو ہیں، لیکن اگر آلوؤں پر سفید کونپلیں یا جڑیں نکل آئیں تو انہیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق، ایسے آلو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ان میں قدرتی طور پر بننے والے دو مرکبات سولانین اور چاکونین خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیمیائی مادے جسم میں داخل ہو کر ہاضمے اور اعصابی نظام پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کم مقدار میں استعمال متلی، پیٹ درد اور اسہال کا باعث بن سکتا ہے، جب کہ زیادہ مقدار سردرد، تیز دھڑکن، بلڈ پریشر میں کمی اور اعصابی کمزوری پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، آلو کے چھلکے، سبز حصے اور کونپلوں میں زہریلے مادوں کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے آلو نہ صرف ذائقے میں کڑوے ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی غذائیت بھی کم ہو جاتی ہے کیونکہ توانائی کونپلوں کی نشوونما میں خرچ ہو جاتی ہے۔
اگر آلو میں ہلکی سی کونپل نکل آئے تو اسے مکمل طور پر کاٹ دینا چاہیے۔ فرائنگ کے عمل سے زہریلے اثرات کچھ حد تک کم ہو سکتے ہیں، لیکن اُبالنے یا مائیکروویو کرنے سے خاص فرق نہیں پڑتا۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آلو سبز یا نرم ہو جائیں تو انہیں ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔
آلو محفوظ رکھنے کے لیے تجاویز:
آلو کو ٹھنڈی، خشک اور اندھیری جگہ پر رکھیں۔
ضرورت سے زیادہ ذخیرہ نہ کریں۔
ایک سے دو ہفتوں میں استعمال ہونے والی مقدار ہی خریدیں۔
صحت کے ماہرین کے مطابق، اُگے یا سبز آلو صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ احتیاط برتی جائے اور ایسے آلو فوری طور پر ضائع کر دیے جائیں۔









