کرپٹو کرنسی تاوان میں استعمال ہو رہی ہے، سینیٹرز کا انکشاف

0
161
کرپٹو کرنسی تاوان میں استعمال ہو رہی ہے، سینیٹرز کا انکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی یا غیرقانونی قرار نہیں دیا گیا، بلکہ یہ “گرے ایریا” میں آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے نوجوان اس ٹیکنالوجی میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور اس شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں “ورچوئل ایسیٹ بل 2025” پر غور کیا گیا، جہاں چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ اگر کرپٹو کی لین دین ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے ہو رہی ہے، جو کہ غیرقانونی ذرائع ہیں، تو پھر کرپٹو کرنسی کو گرے ایریا میں کیسے شمار کیا جا سکتا ہے؟

سینیٹر محسن عزیز نے بھی کرپٹو کرنسی سے جُڑے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ملک میں اغوا برائے تاوان میں کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، اب اغوا کار نقد رقم کے بجائے کرپٹو میں ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اجلاس میں ٹیکس نظام پر بھی تنقید کی گئی۔ سینیٹر دلاور خان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں سپر ٹیکس، سیلز ٹیکس سمیت مختلف اقسام کے ٹیکس نافذ ہیں، جن کی پیچیدگی عام کاروباری طبقے کو مشکلات میں ڈالتی ہے۔ ان کا تجویز دینا تھا کہ اگر تمام شعبوں پر یکساں 5 فیصد ٹیکس لگا دیا جائے تو قومی خزانے کو 40 فیصد زیادہ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔

Leave a reply