
کراچی کے شہری جلد ہی سڑکوں پر روبوٹک ٹریفک افسران کو دیکھ سکیں گے جو خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں پر ای چالان جاری کریں گے۔ اس منصوبے کا اعلان ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے ایک تقریب کے دوران کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ شہر کی مختلف سڑکوں پر نو پارکنگ اور نو ٹو لین بورڈز نصب کیے جائیں گے اور روبوٹک نظام کے ذریعے ٹریفک کی نگرانی کی جائے گی۔ یہ روبوٹ گاڑیوں کی رفتار 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے اسکین کریں گے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی رپورٹ تیار کی جائے گی، جس کے بعد شہریوں کو ای چالان موصول ہوگا۔
کراچی میں بنیادی ڈھانچے کے مسائل روبوٹک نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ شہر کی سڑکیں اکثر خراب حالت میں ہیں اور بار بار کھدائی کی جاتی ہے جس سے ٹریفک کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض شہریوں نے کہا کہ اگر روبوٹ سڑکوں پر عمل درآمد کریں تو سب سے پہلے انہیں سڑک کی خراب حالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دنیا کے ترقی یافتہ شہروں جیسے چین، دبئی اور سنگاپور میں روبوٹک ٹریفک نگرانی عام ہے، لیکن وہاں بنیادی ڈھانچہ مضبوط اور منظم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اپنانے سے پہلے سڑکوں، سگنلز اور دیگر انتظامی نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔
کراچی میں روبوٹک ٹریفک نظام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ آیا بنیادی ڈھانچے کی موجودہ حالت میں یہ نظام مؤثر طریقے سے کام کر سکے گا یا نہیں۔









