کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا “مہنگائی ایڈیشن” نافذ

کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب شہریوں کے لیے خاصی مہنگی ثابت ہو رہی ہے۔ ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد پولیس نے مختلف خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں یہی خلاف ورزیاں نسبتاً کم جرمانے کے ساتھ نمٹ جاتی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق رفتار کی حد سے تجاوز کرنے پر کراچی میں موٹر سائیکل سوار کو پانچ ہزار روپے کا چالان کیا جاتا ہے، جب کہ اسلام آباد میں ایک ہزار اور لاہور میں صرف دو سو روپے جرمانہ مقرر ہے۔
کار یا جیپ کی صورت میں کراچی میں اوور اسپیڈنگ پر دس ہزار روپے کا چالان بنتا ہے، اسلام آباد میں پندرہ سو روپے اور لاہور میں 750 روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ بھاری گاڑیوں، جیسے بس یا ٹریلر، کی حدِ رفتار سے تجاوز کرنے پر کراچی میں بیس ہزار روپے جرمانہ ہے، جبکہ لاہور اور اسلام آباد میں یہی خلاف ورزی ڈھائی ہزار روپے میں نمٹ جاتی ہے۔
رانگ سائیڈ ڈرائیونگ کرنے والوں پر کراچی میں پچیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے، جب کہ اسلام آباد میں صرف ایک ہزار روپے اور لاہور میں 200 سے 750 روپے کا چالان کیا جاتا ہے۔
بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے پر کراچی میں بیس سے تیس ہزار روپے تک جرمانہ ہے، اسلام آباد میں ایک سے آٹھ ہزار روپے اور لاہور میں 200 سے ایک ہزار روپے کے درمیان جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔ نابالغ ڈرائیور پکڑے جانے کی صورت میں کراچی میں کم از کم پچیس ہزار اور زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے چالان ہے، جب کہ اسلام آباد میں 2500 روپے اور لاہور میں اکثر اوقات صرف وارننگ دی جاتی ہے۔
شہریوں نے اس صورتحال پر سوال اٹھایا ہے کہ ایک ہی ملک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر مختلف شہروں میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”کراچی کی سڑکیں تو پہلے ہی ٹوٹی پھوٹی ہیں، اوپر سے چالان سب سے زیادہ!“
عوامی تاثر کے مطابق، کراچی میں ٹریفک قوانین کے نفاذ کا ایک ”خصوصی مہنگائی ایڈیشن“ نافذ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔









