کابل میں دھماکے کے نتیجے میں طالبان کے معاون ہلاک، بیٹا زخمی

کابل، افغانستان – دارالحکومت کابل کے علاقے بوٹخاک میں ایک گھر میں دھماکے کے نتیجے میں طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ عبدالحق واثق کے معاون مولوی نعمان ہلاک ہو گئے، جبکہ انکا بیٹا زخمی ہو گیا۔
واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا جب مولوی نعمان اپنے گھر میں موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں مکان کے اندر شدید نقصان ہوا اور دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ مقامی افراد اور سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ زخمی بچے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، تاہم اس کی حالت کے بارے میں تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دھماکہ گیس سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا، لیکن عینی شاہدین اور مقامی ذرائع نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور اسے ایک ٹارگٹڈ حملہ قرار دیا۔ دھماکے کے بعد مکان کی دوسری منزل کا کمرہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
مولوی نعمان کے ساتھ ایک مہمان بھی موجود تھا جو حملے میں ہلاک ہوا، تاہم اس مہمان کی شناخت کے حوالے سے ابھی کوئی سرکاری معلومات جاری نہیں کی گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
مولوی نعمان کو کابل کے بگرامی ضلع میں دفن کیا گیا۔ عبدالحق واثق، جن کے معاون تھے، طالبان کی اہم شخصیات میں شامل ہیں اور انہوں نے گروپ کے پہلے دور حکومت میں بھی انٹیلی جنس ادارے میں خدمات انجام دی ہیں۔ وہ 2001 کے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کی گرفت میں آئے اور 13 سال سے زائد عرصہ گوآنتانامو بے میں قید رہے۔









