
گاڑیوں کی دنیا میں ایک انقلابی لمحہ آ گیا ہے۔ چین کی مشہور کار ساز کمپنی بی وائی ڈی کے لگژری برانڈ یانگ وانگ کی نئی الیکٹرک ہائپر کار یو ۹ ایکسٹریم نے جرمنی کے ایک ریس ٹریک پر تقریباً ۴۹۶ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ رفتار اس سے پہلے کسی بھی کار نے حاصل نہیں کی تھی — یہاں تک کہ مشہور فرانسیسی کمپنی بُگاٹی بھی پیچھے رہ گئی۔
بُگاٹی جیسی کمپنیاں ہمیشہ اپنی طاقتور پٹرول انجنوں کے لیے مشہور تھیں، جن میں ہزاروں ہارس پاور والا ڈبلیو ۱۶ انجن استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن یو ۹ ایکسٹریم میں نہ کوئی پٹرول انجن ہے، نہ دھواں، نہ شور — یہ ایک مکمل الیکٹرک کار ہے جو جدید بیٹری اور موٹرز پر چلتی ہے۔
اس بے مثال کارکردگی کے پیچھے بی وائی ڈی کی اعلیٰ بیٹری ٹیکنالوجی، طاقتور الیکٹرک موٹرز، اور نہایت ذہین سافٹ ویئر سسٹم موجود ہے جو گاڑی کی رفتار، سسپنشن اور ہوا کو چیرنے کی صلاحیت (ایروناڈائنامکس) کو خودکار طریقے سے کنٹرول کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ریکارڈ نہیں بلکہ گاڑیوں کی صنعت میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ جہاں پہلے یورپی کمپنیاں پٹرول انجنوں کے بل بوتے پر آگے تھیں، اب میدان چین کے ہاتھ آ چکا ہے — وہ بھی بیٹری، سیمی کنڈکٹرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ٹیکنالوجی کے ذریعے۔
رفتار کا وہ تاج، جو برسوں سے بُگاٹی کے سر پر تھا، اب ایک چینی الیکٹرک گاڑی کے پاس آ چکا ہے۔ یہ یورپ کی روایتی کار ساز کمپنیوں کے لیے ایک بڑا اشارہ ہے کہ مستقبل صرف انجن کی آواز کا نہیں، بلکہ خاموشی سے دوڑتی بجلی کی طاقت کا ہوگا۔









