چینی سائنسدانوں نے نینو اور مائیکرو پلاسٹک سے پانی کو صاف کرنے کا سادہ طریقہ دریافت کر لیا

0
91
چینی سائنسدانوں نے نینو اور مائیکرو پلاسٹک سے پانی کو صاف کرنے کا سادہ طریقہ دریافت کر لیا

چین کے محققین نے نل کے پانی اور تازہ پانی میں موجود نانو اور مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کو دور کرنے کے لیے ایک آسان اور مؤثر طریقہ دریافت کیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
چنگژو میڈیکل یونیورسٹی کے بایومیڈیکل انجینئر زیمِن یو اور ان کی ٹیم کے مطابق، نل کے سخت پانی کو اُبالنے سے اس کی سطح پر کیلشیم کاربونیٹ کی ایک چونا نما تہہ بن جاتی ہے، جو پلاسٹک کے ذرات کو اپنی سطح پر جکڑ لیتی ہے اور پانی سے الگ کر دیتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سخت پانی اُبالنے سے 80 سے 90 فیصد تک نانو پلاسٹک پانی سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ اُبالنے کے بعد چائے کی چھنی یا سادہ فلٹر استعمال کر کے اس تہہ میں موجود پلاسٹک کے ذرات کو نکالنا بھی آسان ہے۔
یہ طریقہ تازہ پانی میں بھی کچھ حد تک مؤثر ہے، اگرچہ وہاں کیلشیم کاربونیٹ کی مقدار کم ہوتی ہے۔ نانو اور مائیکرو پلاسٹک زیادہ تر کپڑوں، باورچی خانے کے سامان اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات سے پیدا ہوتے ہیں۔
ٹیکساس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، انسان کے جسم میں یہ ذرات سب سے زیادہ پینے کے پانی کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں، کیونکہ بیشتر پانی کے فاضل صاف کرنے والے پلانٹس انہیں مکمل طور پر صاف نہیں کر پاتے۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ ذرات انسانی صحت پر کس حد تک نقصان دہ ہیں، تاہم ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ انسانی آنتوں کے مائیکرو بایوم اور مدافعتی نظام پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اُبالا ہوا پانی پینے سے نانو پلاسٹک کے جسم میں داخل ہونے کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں اور یہ عالمی سطح پر پلاسٹک کے اثرات محدود کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ ٹیم چاہتی ہے کہ اس طریقے پر مزید مطالعات کی جائیں تاکہ انسانی صحت کے لیے اس کے فوائد کی مکمل تصدیق کی جا سکے۔

Leave a reply