
جدید دور میں چھوٹے بچوں کو موبائل فون یا دیگر اسکرینز کے حوالے کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ عادت بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی نشوونما کے لیے ایک خاموش خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ابتدائی عمر، خاص طور پر زندگی کے پہلے دو سال، بچے کی دماغی ترقی کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اسی عرصے میں دماغ میں وہ بنیادی روابط بنتے ہیں جو زبان، سیکھنے کی صلاحیت، جذباتی توازن اور سماجی رویوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس نازک دور میں حد سے زیادہ اسکرین کا استعمال ان قدرتی عملوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اکثر والدین اسکرین کو وقتی سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ کھانے کے دوران یا مصروفیت کے وقت موبائل دینے سے بچہ خاموش ضرور ہو جاتا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ خاموشی صحت مند نہیں ہوتی۔ اس عادت سے بچے نہ تو کھانے پر توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی والدین سے گفتگو یا جذباتی رابطہ قائم ہو پاتا ہے، جو زبان اور سماجی مہارتوں کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسکرین کے منفی اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ نیند کی بے ترتیبی، بولنے میں تاخیر، توجہ کی کمی، جذباتی بے چینی، نظر اور وزن سے متعلق مسائل ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں، جو مسلسل اسکرین استعمال سے جُڑی ہو سکتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کے مطابق آج کے خاندانی نظام میں بھی یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے۔ نیوکلیئر فیملی سسٹم، مصروف طرزِ زندگی اور گھریلو مدد کی کمی کے باعث والدین، خصوصاً مائیں، بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے اسکرین کا سہارا لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ بعض صورتوں میں بیماری یا ذہنی دباؤ کے دوران اسکرین بچے کو پرسکون رکھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے، جو بعد میں عادت میں بدل جاتی ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے والدین کے ساتھ براہِ راست وقت گزارنا، کھیل، گفتگو اور مشترکہ سرگرمیاں نہایت اہم ہیں۔ نیند کے درست معمولات اور جسمانی سرگرمی بھی دماغی توازن اور صحت مند عادات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بچوں کو ہر لمحہ تفریح فراہم کرنا ضروری نہیں۔ انہیں بوریت کا سامنا کرنے دینا بھی سیکھنے کا ایک حصہ ہے۔ روزمرہ کے کاموں میں بچوں کو شامل کرنا، سادہ کھیل کھیلنا، کہانیاں سنانا یا تخلیقی سرگرمیاں ان کی توجہ، زبان اور جذباتی ربط کو مضبوط بناتی ہیں۔
اگر اسکرین پہلے ہی بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہو تو اچانک مکمل پابندی کے بجائے بتدریج کمی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسکرین کے وقت کو آہستہ آہستہ کم کر کے اس کی جگہ کھیل، بات چیت اور تخلیقی سرگرمیاں متعارف کروانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسکرین کبھی بھی والدین کی توجہ، محبت اور حقیقی وقت کا متبادل نہیں بن سکتی۔ جب اسکرین کو جذباتی تعلق کی جگہ دی جاتی ہے تو یہ بچوں کی ذہنی اور جذباتی صحت کے لیے ایک دیرپا خطرہ بن سکتی ہے۔








