
عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے، جہاں سونے کے بعد چاندی کی قیمت بھی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد گر گئی۔
چاندی کی بین الاقوامی قیمت 121 ڈالر تک پہنچنے کے بعد اچانک 7 ڈالر کی کمی کے ساتھ 114 ڈالر کی سطح پر آگئی۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع حاصل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر فروخت نے قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی اور پلاٹینم جیسی نسبتاً چھوٹی مارکیٹوں میں قیاس آرائی کا اثر زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قیمتیں حقیقی قدر سے اوپر جا سکتی ہیں۔ حالیہ اتار چڑھاؤ بھی زیادہ تر قلیل مدتی سرمایہ کاری اور قیاس آرائیوں کا نتیجہ ہے، اور اصلاح کا مرحلہ فطری طور پر آ رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین نے مزید کہا کہ اگرچہ مختصر مدت میں قیمتیں غیر مستحکم ہیں، تاہم عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی قیمتی دھاتوں کی طلب کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سونا اور چاندی مضبوط سمجھی جاتی ہیں۔
آئندہ دنوں میں قیمتوں کا انحصار عالمی مالیاتی پالیسیوں، امریکی ڈالر کی قدر، شرح سود اور سرمایہ کاروں کے رویّے پر ہوگا۔ ماہرین سرمایہ کاروں کو فوری منافع کی بجائے محتاط حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دے رہے ہیں۔
غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں سے وابستہ کاروباری حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے، اور سرمایہ کار آئندہ رجحانات کے واضح ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔









