
عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں میں اچانک اور شدید کمی نے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پریشان کر دیا ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو حال ہی میں کلو کے حساب سے چاندی خرید چکے تھے، انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ہفتے کے آغاز میں چاندی کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور یہ تقریباً 90 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے اس میں بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کی۔ تاہم چند ہی دنوں میں قیمتیں گر کر 65.67 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئیں، جس سے مارکیٹ میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات عالمی سطح پر طلب میں کمی، ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع نکالنے کا رجحان ہیں۔ اس غیر معمولی کمی نے خصوصاً ان خریداروں کو متاثر کیا جنہوں نے بلند قیمت پر چاندی خریدی تھی۔
مقامی صرافہ بازاروں میں بھی اثرات واضح ہیں، جہاں خریدار نئی خریداری سے گریز کر رہے ہیں اور کئی افراد قیمتیں کم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن اس بار کمی کی رفتار غیر متوقع رہی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے اور طویل مدت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، مگر فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی کا رجحان برقرار ہے۔









